بدھ‬‮ ، 14 اکتوبر‬‮ 2026 

پاکستان کا وہ علاقہ جہاں لڑکی پسند آجائے تو اس کے گھر کے باہر فائرنگ کرکے رشتہ مانگا جاتا ہے، کون سی جگہ ہے ؟ جانئے

datetime 4  اکتوبر‬‮  2016 |

اسلام آباد (ما نیڑ نگ ڈیسک )پاکستان تقافت کا منبہ ہے ،یہاں ثقافت کے مختلف رنگ دیکھنے کو ملتے ہیں،لیکن پاکستانی علاقے وزیرستان کی ثقافت کے تو کچھ منفرد ہی رنگ اور ڈھنگ ہیں ،یہاں کی شادیاں انتہائی خوبصورت رسوم و روایات کی حامل ہوتی ہیں،وزیرستان میں شادی کی رسومات ایک غیرتحریری رسمی قانون کے تحت ہوتی ہیں، اس قانون کو وزیرولا یا وزیرقانون کہا جاتا ہے، لڑکا اپنے والدین کی مرضی کے بعد کسی بھی دوسرے خاندان کی لڑکی کے ہاں شادی کا پیغام بھجوا سکتا ہے،

اگر لڑکی راضی ہو تو لڑکا اس کے دروازے کے سامنے جا کر ہوائی فائرنگ کرکے اس کا رشتہ مانگتا ہے، اس رسم کو علاقائی زبان میں ’’زاغ پہ وکا‘‘ کہا جاتا ہے۔ لیکن اگر لڑکی رشتے سے انکار کر دے اور لڑکا اس پر مصر رہے اور اس کے گھر کے باہر فائرنگ کر دے تو پھر ایک بڑا خون خرابہ ہو سکتا ہے دونوں کی رضا مندی کے بعد منگنی ہوتی ہے جسے مقامی زبان میں ’’لوسنیوائی‘‘ کہا جاتا ہے، منگنی کی رسم پر بھی لڑکے والوں کی طرف سے فائرنگ کی جاتی ہے،وزیرستان میں دلہنیں جو لباس پہنتی ہیں اسے ’’گانر کھٹ‘‘ کہا جاتا ہے اس ملبوسات کی نمائش کی رسم کو ’’سہدڑا‘‘(Sahdarra)کہتے ہیں اور یہ عموماًپیر یا منگل کے ادا کی جاتی ہے۔سہدڑا کے تین دن بعد شادی شروع ہوتی ہے۔ لڑکے والے لڑکی کے گھر آتے ہیں۔ ان کی آمد پر لڑکی والے ان پر مختلف رنگوں والے پانی کا چھڑکا کرتے ہیں اور ان کو کنکریاں مارتے ہیں،یہ رسم لڑکی کے وداع ہونے پر لڑکی والوں کے دکھ اور تکلیف کی عکاسی کرتی ہے، اگلے روز لڑکی والوں کی طرف سے ایک بڑی ضیافت کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ ان تمام رسومات اور جشن میں دولہا شریک نہیں ہوتا۔ وہ اس اپنے گھر پر ہی رہتا ہے اور اپنے گھروالوں اور دلہن کی آمد کا انتظار کرتا ہے۔ جب لڑکے والے دلہن کو لے کر اپنے گھر آ جاتے ہیں تو اسے اپنے سسرال کے گھر میں ایک کمرے میں تین دن کے لیے بٹھا دیا جاتا ہے۔ اس دوران رشتہ داروں کی بڑی تعداد آتی ہے اور دلہن سے ملتی ہے۔ ان تین دنوں میں دلہن اپنے شوہر کے خاندان سے مانوس ہو جاتی ہے۔ان تین دنوں میں لڑکے والوں کا ہر رشتہ دار دلہن کو مل سکتا ہے تاہم لڑکے کو اپنی دلہن کو دیکھنے کی اجازت نہیں ہوتی۔ تیسرے روز دلہن کوگاؤں کی دیگر لڑکیوں کے ساتھ کنویں سے پانی بھرنے کے لیے بھیجا جاتا ہے،اسی روز شام کے وقت نکاح خواں کو بلایا جاتا ہے اور دلہا دولہن کا نکاح پڑھوا دیا جاتا ہے،اس کے بعد دولہا دلہن کو ایک دوسرے کو دیکھنے کی اجازت مل جاتی ہے اور یوں شادی اپنے اختتام کو پہنچتی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(آخری حصہ)


  نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(گیارہواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دسواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(نواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(آٹھواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…