جمعرات‬‮ ، 12 فروری‬‮ 2026 

چار گھنٹے کا فاصلہ طے کرنے میں 44 سال لگ گئے، واقعہ نے سب کو افسردہ کردیا

datetime 8  جنوری‬‮  2016 |

گلگت(نیوز ڈیسک)چار گھنٹے کا فاصلہ طے کرنے میں 44 سال لگ گئے“1971ءکی جنگ میں بچھڑے باپ بیٹا2016ء میں مل گئے، ابراہیم کو لینے ایئرپورٹ پر تقریباً50 افراد آئے ، موقع پر موجود لوگوں کی آنکھیں بھی نم ہوگئیں۔برطانوی خبررساں ادارے کے مطابق ابراہیم ثانی کافی کوششوں کے بعد تین ماہ کا ویزا لے کر والد سے ملنے پاکستان آئے ہیں،جو سفر محض چار گھنٹوں میں کیا جا سکتا تھا اسے مکمل کرنے میں بھارتی کے شمالی علاقے لداخ کے ایک بیٹے کو 44 سال لگ گئے۔1971 کی جنگ نے ابراہیم ثانی کو جب وہ محض چھ سال کے تھے، اپنے والد سے الگ کر دیا تھا۔،ان کے والد عبدالغفور پاکستانی علاقے گلگت میں مزدوری کے لیے آئے تھے کہ جنگ کی بنائی نئی سرحد کی وجہ سے واپس اپنے گاو?ں نہ لوٹ سکے۔ان باپ بیٹے کی ملاقات چند روز قبل بالآخر سکردو کے ہوائی اڈے پر ہوئی۔اس موقع پر ہوائی اڈے پر موجود گلگت کے صحافی نے بتایا کہ چالیس پچاس لوگ ابراہیم کو لینے آئے تھے جبکہ ایئرپورٹ پر موجود دیگر مسافر بھی اس ملاقات کو دیکھ کر رو پڑے۔ہر کسی کی آنکھ پرنم تھی۔بی بی سی اردو سے ٹیلیفون پر گلگت کے ضلع گانچھے سے بات کرتے ہوئے ابراہیم ثانی نے کہا کہ خواہش تو ملنے کی ان کی طویل عرصے سے تھی لیکن کوششوں کی باوجود ایسا نہ ہوسکا۔ ’میں، میری بڑی بہن اور ماں سرحد پار رہ گئے جب جنگ میں بھارت نے ہمارے علاقے کو اپنا حصہ بنا لیا جبکہ والد یہاں رہ گئے۔‘ درخواستوں سے کچھ نہیں ہوتا۔ ان دونوں ملکوں نے کہا تھا کہ وہ ملانے کی کوشش کریں گے راستے کھولیں گے لیکن ہوا کچھ نہیں، کوئی نتیجہ نہیں نکلا ہے۔یہ ہوگیا تو بہت خوشی ہوگی اللہ کا شکر ادا کریں گے۔80 سال سے زیادہ عمر کے عبدالغفور نے بیوی کی موت کے بعد یہاں دوسری شادی کر لی اور دوکانداری کر کے گزارا کیا۔ وہ ریڈیو سٹیشن میں بھی مترجم کا کام کرتے رہے ہیں۔بیٹے سے ملاقات کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ ’اللہ تعالی کا شکر گزار ہوں کہ ایک جسم کے دو ٹکڑے آپس میں دوبارہ مل گئے۔ خوشی کی کوئی انتہا نہیں ہے۔ بیان کرنے سے قاصر ہوں۔ابراہیم ثانی کافی کوششوں کے بعد تین ماہ کا ویزا لے کر پاکستان آئے ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ ماضی میں کئی مرتبہ والد نے بھی بھارتی ویزے کی کوشش کی لیکن جموں و کشمیر کی صورتحال کی وجہ سے اسے مسترد کر دیا گیا لہذا وہ نہیں جاسکے۔’میری بہن بھی وہاں اسی طرح تڑپ رہی ہے مگر ملنے کے لیے لیکن کوئی آسان راستہ نہیں ہے۔‘تقسیم ہند کے موقع پر اور اس کے بعد بھی پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگوں نے بڑی تعداد میں اس خطے کے لوگوں کو تقسیم کیا ہے اور ان کی زندگیاں ہی تبدیل کر دی ،باپ بیٹے کی ملاقات چند روز قبل بالآخر سکردو کے ہوائی اڈے پر ہوئی ابراہیم ثانی کو بچھڑتے وقت کے والد یاد نہیں لیکن بعد میں خط وکتابت کے ذریعے انھوں نے ان کی تصاویر دیکھیں۔وہ کہتے ہیں ’بس اتنا معلوم تھا کہ ہیں لیکن ہونے کے باوجود اپنے آپ کو جدا محسوس کرتے تھے۔‘عبدالغفور بھی ماضی کی تلخ یادوں کو کرید کر بتاتے ہیں کہ اس وقت وہ روزگار کے سلسلے میں سکردو آئے تھے لیکن پھر سنا کہ جنگ ہوگئی ہے۔’ایک دو گاوں پر انڈیا نے قبضہ کر لیا تو میں یہاں مجبوراً پھنس گیا۔ دو ہزار میں جب اس خطے میں ٹیلیفون آیا تو اس پر بات ہونے لگی لیکن ملاقات پھر بھی نہ ہو سکی۔‘اس سوال پر کہ کیا وہ دونوں ملکوں سے کوئی اپیل کرنا چاہتے ہیں کہ ان جیسے بٹے ہوئے خاندان یکجا ہو سکیں، تو عبدالغفور اپنی نحیف آواز میں بولے کہ ’درخواستوں سے کچھ نہیں ہوتا۔ان دونوں ملکوں نے کہا تھا کہ وہ ملانے کی کوشش کریں گے، راستے کھولیں گے لیکن ہوا کچھ نہیں، کوئی نتیجہ نہیں نکلا ہے۔ یہ ہوگیا تو بہت خوشی ہوگی اللہ کا شکر ادا کریں گے۔بیٹے کی واپسی کی بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ظلم ہے لیکن کیا کریں؟ کوئی چارہ نہیں ہے۔ان کے بیٹے کا کہنا ہے کہ اب دوبارہ جدائی کے انتظار میں ہیں کہ ویزے کے ختم ہونے پر واپسی پر کیا منظر ہوگا۔مجھے پھر ایک مرتبہ اس جدائی کے منظر کو دیکھنا ہے۔ پھر مجھے محسوس کرنا ہوگا کہ جدائی کیا ہوتی ہے۔



کالم



شوگر کے مریضوں کے لیے


گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…