ہفتہ‬‮ ، 29 اگست‬‮ 2026 

انسانوں کی نیند جانوروں کے مقابلے میں بہتر ہے ‘ تحقیق

datetime 19  دسمبر‬‮  2015 |

نیو یارک (نیوز ڈیسک) رات کی نیند کسے پیاری نہیں ہوتی ہے اور اس میں تعجب کی بات نہیں ہے کہ انسانوں کی طرح جانوروں کو بھی نیند عزیز ہوتی ہے لیکن آپ کو یہ جان کر شاید حیرانی ہو کہ آپ کی پالتو بلی جو رات دن سوتی ہے اور اس کے باوجود سست اور کاہل ہے اس کے مقابلے میں آپ کی رات کی نیند زیادہ فائدہ مند ہے اور یہ امریکی سائنس دانوں کی نئی تحقیق کا نتیجہ کہتا ہے۔سائنسی جریدے ایوولوشنری اینتھروپولوجی کی دسمبر کی اشاعت میں شائع ہونے والی تحقیق کے لیے ڈیوک یونیورسٹی کے محققین نے بندروں کی بیس نسلوں اور سینکڑوں ممالیہ جانوروں اور انسانوں میں نیند کے نمونوں کا جائزہ لیا ہے۔تحقیق کے سربراہ محقق ڈیوڈ سیمسن کے مطابق انسان ہر رات تقریباً سات گھنٹوں کی نیند لیتا ہے جو دوسرے جانوروں مثلاً چوہے کی نیند کے مقابلے میں آدھی سے کم ہے جبکہ بندروں کی مختلف قسموں میں نیند کا دورانیہ زیادہ سے زیادہ 17 گھنٹوں کا ہوتا ہے۔تحقیق کے مصنفین کو پتا چلا کہ انسان اپنے قریبی رشتے دار سمجھے جانے والے بن مانس، چیمپینزی اور بندروں کی دیگر نسلوں کے مقابلے میں کم سوتا ہے۔ اس کی نیند مختصر ہے لیکن وہ دوسرے جانوروں کے مقابلے میں زیادہ گہری نیند لیتا ہے اور ’ریم سلیپ‘ میں زیادہ دیر تک سوتا ہے۔نتائج سے ظاہر ہوا کہ جب انسان مکمل طور پر سو جاتا ہے تو ریم سلیپ کا مرحلہ شروع ہوتا ہے اور انسان 25 فیصد نیند اسی مرحلے میں پوری کرتا ہے۔محققین کے مطابق اگرچہ دوسرے جانوروں کو بھی نیند آتی ہے لیکن جانوروں کی نیند میں ریم سلیپ کا دورانیہ اندازاً 5 فیصد ہے۔محققین نے کہا کہ یہاں ہم نے نیند کی شدت اور انسان کی علمی قابلیت کے ارتقاءکا مفروضہ پیش کیا ہے جس کے مطابق ابتدائی انسانوں کو کم وقت میں نیند کی ضرورت کو پورا کرنے کے لیے دباوکا سامنا کرنا پڑا ہو گا اور جب وہ درختوں پر سے زمین میں رہنے لگے تو نیند کی تبدیلی ان کے لیے فائدہ مند ثابت ہوئی جس کا مطلب یہ تھا کہ زیادہ گھنٹے جاگنے کی وجہ سے ان کے لیے خونخوار جانوروں یا حریف قبائل کے حملوں کا خطرہ کم تھا اسی طرح ان کے پاس سماجی رابطوں سے پیدا ہونے والے فوائد حاصل کرنے کے لیے زیادہ وقت تھا۔محققین کے مفروضہ کے مطابق کم نیند نے انھیں زیادہ طویل وقت کے لیے کارآمد بنا دیا تھا جس میں وہ نئی مہارتیں اور معلومات سیکھتے اور رات کی گہری نیند ان یاداشتوں کو مضبوط بنانے کے لیے ضروری تھی جس کے نتیجے میں انسان کی علمی صلاحیتوں میں اضافہ ہوا۔اس دلیل کے ساتھ یہ کہا جا سکتا ہے کہ کم سونے والے ابتدائی انسانوں کی نسلیں اپنی بقا کی جنگ لڑنے میں کامیاب رہیں جنہوں نے ماحول سے حیاتیاتی ارتقاءکا عمل قبول کیا اور انہی میں آج کے انسان کے اجداد بھی ہیں جنہوں نے انتہائی تیز رفتاری سے اپنے آپ کو ترقی دی اور نیند کا یہ پیٹرن ان میں نسل در نسل منتقل ہوا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…