اسلام آباد(نیوزڈیسک )آپ ضرور حیران ہوئے ہوں گے کہ جاپان جیسے ملک میں رقص پر پابندی عائد تھی۔ درحقیقت مشرقی ایشیائی ملک میں رقص کرنا مکمل طور پر ممنوع نہیں تھا۔ رقص کے شوقین ان جگہوں یا نائٹ کلبوں میں جا کر اپنا شوق پورا کرسکتے تھے جنھوں نے حکومت سے اس مقصد کے لیے باقاعدہ اجازت نامہ حاصل کر رکھا ہو۔ مگر یہاں بھی آدھی رات کے بعد رقص کی محفلیں سجانا ممنوع قرار دیا گیا تھا۔ عوامی مقامات پر رقص کرنے کی اجازت بالکل نہیں تھی۔جاپان میں یہ پابندی دوسری جنگ عظیم کے خاتمے کے بعد عائد کی گئی تھی۔ اس کا مقصد ملک میں جسم فروشی کی سرعت سے پھیلتی وبا پر قابو پانا تھا۔ حکومت کا یہ اقدام جسم فروشی کے قبیح کاروبار کو محدود کرنے میں معاون ثابت ہوا۔دوسری جنگ عظیم کے بعد جاپانی، اپنی قوم و ملک کی تعمیر نو میں جت گئے۔ سخت محنت اور جانفشانی کی بہ دولت چند ہی عشروں میں یہ قوم ترقی کی بلندیوں پر پہنچ گئی۔ جاپان ایک تباہ حال ملک سے ترقی یافتہ ملک میں بدل گیا، مگر نصف رات کے بعد اور غیرلائسنس یافتہ مقامات پر رقص پر پابندی کے قانون کی طرف کسی کی توجہ نہیں گئی۔ بیسویں صدی کے دوران عوام کے ساتھ ساتھ پولیس نے بھی اس قانون کو فراموش کردیا تھا۔ اس زمانے میں نائٹ کلبوں کا شب تین چار بجے تک کھلا رہنا معمول بن گیا تھا۔ رقص و موسیقی کا شور بھی کلبوں کے بند ہونے تک جاری رہتا تھا۔اکیسویں صدی کے آغاز پر جب نائٹ کلبوں کے ذریعے معروف شخصیات کے منشیات کی اسمگلنگ میں ملوث ہونے کے شواہد ملنے لگے، اور کلبوں میں لڑائی جھگڑے کے واقعات میں غیرمعمولی اضافہ ہوا تو محکمہ پولیس کو یہ قانون یاد آگیا۔ چناں چہ متعدد نائٹ کلبوں پر چھاپے مارے گئے اور ناچ گانا کو رات بارہ بجے بند کردینے کے قانون پر ازسرنو عمل درآمد کروایا جانے لگا۔چند برسوں کے بعد جاپان کے معروف موسیقار Ryuichi Sakamotoنے اس قانون کے خلاف آواز اٹھائی۔ دوسرے لوگ بھی ان حمایت کرنے لگے۔ جلد ہی ان کے ہمنواں کی تعداد لاکھوں تک پہنچ گئی۔ ریوچی اور ان کے حامیوں نے اس قانون کے خاتمے کے لیے ڈیڑھ لاکھ دستخطوں کے ساتھ درخواست حکومت کو ارسال کی۔ ان کی درخواست پر غوروخوض کے بعد گذشتہ ہفتے حکومت نے اس قانون کے خاتمے کا اعلان کردیا۔ تاہم اس کا اطلاق یکم جنوری 2016 سے ہوگا۔ اس وقت تک نصف شب کے بعد رقص کرنے پر پابندی کا قانون موثر رہے گا۔کہا جارہا ہے کہ حکومت 2020 میں منعقدہونے والے اولمپکس کے پیش نظر پہلے ہی رقص پر پابندی کا قانون ختم کرنے پر غور کررہی تھی، تاکہ غیرملکی سیاحوں کو کوئی شکایت نہ ہو۔ تاہم ریوچی کی درخواست نے سوچ بچار کے عمل کو مہمیز کیا اور حکومت نے رقص پر پابندی کے قانون کے خاتمے کا اعلان کردیا۔
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
ابھیشیک شرما نے ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میں نیا عالمی ریکارڈ قائم کردیا
-
بلوچستان ڈوب رہا ہے(آخری حصہ)
-
پیٹرول اور ڈیزل سستا کردیا گیا
-
ناناپاٹیکر کی موت کی وجہ کیا بنی؟ پوسٹ مارٹم رپورٹ میں نئے انکشافات سامنے آگئے
-
ٹیسٹ کرکٹ کی تاریخ میں ایسا ریکارڈ قائم جو شاید کبھی نہ ٹوٹ سکے
-
سعودی عرب جانے والے پاکستانی مسافروں کے لیے اہم اعلان
-
چڑیا گھر میں ٹائیگر کے پنجرے میں داخل ہونے والا شخص ہلاک، انتظامیہ کا ٹائیگر کو زندہ رکھنے کا فیصلہ
-
زلزلے کے جھٹکے
-
عرفان پٹھان کو افغان کرکٹر راشد خان کے گھر دعوت کی ویڈیو مہنگی پڑگئی
-
نانا پاٹیکر کی پوسٹ مارٹم رپورٹ سامنے آگئی
-
لاہور: رشتہ ٹوٹنے کے رنج میں سابق منگیتر کی لڑکی سے زیادتی
-
معروف اینکر اقرار الحسن کو لاہور سے گرفتار کر لیا گیا
-
سیاسی جماعت کا استحکام پاکستان پارٹی میں ضم ہونے کا اعلان
-
حکومت نے پیٹرول سستا، ڈیزل مہنگا کرنے کا اعلان کردیا



















































