منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

معدے کے السر کیلئے عام استعمال ہونے والی دوا نئے کورونا وائرس کیلئے کتنی مفید ہے؟ تحقیق میں حیران کن نتائج

datetime 13  اکتوبر‬‮  2020 |

ہانگ کانگ (این این آئی) معدے کے السر کے لیے عام استعمال ہونے والی ایک دوا نئے کورونا وائرس کی نقول بننے کے عمل کی روک تھام میں مددگار ثابت ہوسکتی ہے۔یہ بات ہانگ کانگ میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی، جس کے مطابق جانوروں پر اس دوا کے استعمال سے کورونا وائرس کی نقول بننے کی روک تھام میں مدد ملی۔ہانگ کانگ یونیورسٹی کی یہ تحقیق طبی

جریدے نیچر مائیکرو بائیولوجی میں شائع ہوگی اور اس میں کورونا وائرس کے ایک نئے اور پہلے سے تیار علاج کی دستیابی کا بتایا گیا ہے۔محققین کے مطابق رینٹیڈائن بسمچ سٹریٹ (آر سی بی) نامی دوا کووڈ کے علاج میں اتنی ہی موثر ہوسکتی ہے جتنی ریمیڈیسور، اور وہ بھی بہت کم قیمت پر۔آر سی بی میں ایک جزو بسمچ ہوتا ہے، جس کے بارے میں محققین کا کہنا ہے کہ یہ انسانوں اور جانوروں کے کورونا وائرس سے متاثہر خلیات میں وائرل لوڈ کو ایک ہزار فیصد تک کم کرسکتا ہے۔چوہوں پر اس کے تجربات کے دوران وائرل لوڈ کی سطح میں پہلے کے مقابلے میں نظام تنفس کی اوپری اور زیریں نالی میں سو فیصد تک کمی آئی جبکہ وائرس سے ہونے والے نمونیا پر قابو پانا ممکن ہوا۔ہانگ کانگ یونیورسٹی کے ڈاکٹر ریومنگ وانگ نے ایک پریس کانفرنس کے دوران بتایا کہ آر سی بی کی افادیت کا موازنہ ریمیڈیسیور سے کیا جاسکتا ہے،یہ محفوظ اور کلینیکل ٹرائلز میں استعمال کے لیے تیار ہے۔تحقیقی ٹیم نے دریافت کیا کہ آر سی اس اہم ساختی پروٹین 13 کو ہدف بناسکتا ہے جو کورونا وائرس کے لیے نقول بنانے کے لیے ضروری ہے۔انہوںنے بتایاکہ پہلی بار اس کا انکشاف ہوا ہے کہ اس وائرل انزائمے کو ادویات سے ہدف بنایا جاسکتا ہے۔ڈاکٹر ریومنگ وانگ نے بتایا کہ یہ وائرل پروٹین ڈی این اے میں ایک قینچی کی طرح کام کرتا ہے اور اس طرح وائرس کو نقول بنانے کے لیے مدد فراہم کرتا ہے تاہم آر سی بی اور

اس کے اجزا اس وائرل پروٹین کو غیرفعال بناکر ڈی این اے میں ہونے والی توڑ پھوڑ کو روکتے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ ایک بار جب اس پروٹین کو ناکارہ کردیا جائے تو وائرس اپنی نقول بنانے کی صلاحیت سے محروم ہوجاتا ہے۔ہانگ کانگ یونیورسٹی کے ایک اور پروفیسر ہونگزی سن نے کہا کہ اینٹی وائرل مزاحمت کے خدشات بہت کم ہیں۔انہوں نے بتایا کہ آر سی بی اس پروٹین کو ہدف بناتی

ہے اور وہ بہت زیادہ بدل نہیں پاتا، ورنہ خلیات خود کو بچا نہیں پاتے، اس دوا کو ادویات کے کاک ٹیل کی شکل میں استعمال کرکے مختلف حصوں کو ہدف بنایا جاسکتا ہے، جس سے وائرس کے لیے مزاحمت کرنا مشکل ترین ہوجائے گا۔انہوں نے کہا کہ اس دوقا کی قیمت ریمیڈیسیور کی قیمت سے

25 فیصد سے بھی کم ہوگی، جس کی عالمی سطح پر قلت ہے اور ایک کورس کے لیے 3 ہزار ڈالرز سے زیادہ خرچ کرنا پڑتے ہیں۔تحقیقی ٹیم کی جانب سے اب امریکا میں پیٹنٹ کے لیے درخواست دی جائے گی تاکہ آر سی بی کو کووڈ 19 کے مریضوں کے علاج کے لیے استعمال کیا جاسکے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…