منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

ملٹی نیشنل کمپنیوں کیساتھ ملی بھگت سے ادویات کے ریٹس میں کروڑوں روپے کے فراڈ کا تہلکہ خیز انکشاف

datetime 16  ستمبر‬‮  2020 |

شیخوپورہ(این این آئی)ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال شیخوپورہ میں ملٹی نیشنل کمپنیوں کیساتھ ملی بھگت سے ادویات کے ریٹس میں کروڑوں روپے کے فراڈ کا انکشاف ہوا ہے جس کے بعد اینٹی فراڈ شیخوپورہ نے پرگورنمنٹ آفیسر حیدر علی کیخلاف مقدمہ درج کرلیا ہے جبکہ اس سکینڈل

میں خاتون کمپیوٹر آپریٹر فرحت ایمان کے ملوث ہونے کا بھی امکان ہے جو اس سے باہم مشورہ ہوکر ہسپتال کو سپلائی ہونیوالی ادویات کے ریٹس کمپنیوں کیساتھ ملی بھگت کرکے لگواتے رہے ہیں جس سے سرکاری خزانہ کو کروڑوں ر وپے کا نقصان بتایا گیا ہے جبکہ ذرائع نے یہ بتایا کہ مذکورہ خاتون کمپیوٹر آپریٹر اپنے آفیسر کی آشیر بادسے لاہور سمیت دیگر اضلاع سے تعلق رکھنے والے ٹھیکیداروں کو چکر لگوا کر انہیں مختلف حیلوں بہانوں سے بلیک میل کرتی اور یہاں تک کہ ذاتی نوعیت کے اخراجات اور کام بھی ٹھیکیداروں کے ذمہ لگائے جاتے ذرائع کے مطابق مذکورہ خاتون ڈیلی ویجز پر کام کرتی ہے مگر ایک ہی سیٹ پر کافی عرصہ سے کام کررہی ہے اور سیاسی واثر ورسوخ کی وجہ سے چند ماہ کیلئے اپنے ساتھ والے روم بجٹ اینڈ اکانٹ میں ڈیوٹی لگواکر پھر دوبارہ اسی سیٹ پر آجاتی ہے ذرائع نے بتایا کہ پرکورمنٹ آفیسر حیدر علی کیساتھ ساتھ مذکورہ خاتون کی بھی انکوائری کروائی جائے بتایا گیا ہے کہ مقامی ٹھیکیدار نے اس سلسلہ میں انٹی فراڈ شیخوپورہ پولیس کو آگاہ کیا جس نے اپنی تحقیقات کے بعد ان کے خلاف مقدمہ درج کرکے تفتیش شروع کردی ہے اوراس میں محکمہ کے بڑے افسران کے نام بھی آسکتے ہیں رابطہ کرنے پر کمپیوٹر آپریٹر فرحت ایمان نے بتایا کہ ملٹی نیشنل کمپنیوں کے ریٹس ضرور زیادہ تھے مگر اس معاملہ سے میرا کوئی لینا دینا نہیں ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…