منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

خواتین کا مدافعتی نظام کورونا وائرس کے خلاف زیادہ مضبوط قرار، ماہرین کا نئی تحقیق میں حیرت انگیز انکشاف

datetime 28  اگست‬‮  2020 |

واشنگٹن(این این آئی)نئے کورونا وائرس کی وبا کے آغاز سے یہ معلوم ہوچکا ہے کہ معمر مردوں میں اس سے سنگین حد تک بیمار ہونے اور موت کا خطرہ خواتین کے مقابلے میں زیادہ ہوتا ہے۔اس حوالے سے طبی ماہرین نے مختلف خیالات ظاہر کیے مگر اب ایک واضح جواب دیا گیا ہے کہ مردوں کے مقابلے میں خواتین میں اس بیماری کی شدت میں اضافے یا موت کا خطرہ مردوں کے مقابلے میں

کم کیوں ہے۔درحقیقت خواتین کا مدافعتی ردعمل مردوں کے مقابلے میں زیادہ طاقتور ہوتا ہے۔میڈیارپورٹس کے مطابق یہ بات امریکا میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی۔یالے یونیورسٹی کی تحقیق میں بتایا گیا کہ خواتین کے جسم مردوں کے مقابلے میں زیادہ مضبوط مدافعتی ردعمل کا اظہار کرتے ہیں۔طبی جریدے جرنل نیچر میں شائع تحقیق میں بتایا گیا کہ معمر خواتین بھی مردوں کے مقابلے میں زیادہ ٹی سیلز تیار کرتی ہیں جو وائرس کو پھیلنے سے روکتے ہیں۔تحقیق میں بتایا گیا کہ کووڈ 19 سے بیمار خواتین میں مرد مریضوں کے مقابلے میں ٹی سیلز کی سرگرمیاں نمایاں حد تک زیادہ ہوتی ہیں، اور یہ سرگرمیاں زیادہ عمر والی خواتین میں بھی دیکھی جاسکتی ہیں۔تحقیق کے مطابق مریضوں کی عمر اور ناقص ٹی سیلز ردعمل کے درمیان تعلق کو دیکھا گیا جو مردوں میں تو بدترین نتائج کا باعث مگر خواتین مریضوں میں ایسا نہیں ہوتا۔محققین کا کہنا تھا ککہ عمر بڑھنے کے ساتھ مردوں میں ٹی سیلز کے متحرک ہونے کی صلاحیت ختم ہونے لگتی ہے، اگر آپ جائزہ لیں گے تو معلوم ہوگا کہ جن لوگوں کے جسم ٹی سیلز بنانے میں ناکام رہتے ہیں، ان میں کووڈ 19 کے بدترین نتائج دیکھنے میں آئے۔اس تحقیق کے دوران ہسپتال میں زیرعلاج 17 مردوں اور 22 خواتین کو شامل کیا گیا تھا۔ان میں سے کوئی بھی مریض وینٹی لیٹر پر نہیں تھا جبکہ ادویات کا استعمال کرایا جارہا تھا جو مدافعتی نظام پر اثرات مرتب کررہا تھا۔محققین کا کہنا تھا کہ یہ تحقیق اس خیال کو تقویت پہنچاتی ہے کہ مریضوں کی جنس کو کورونا وائرس کی ویکسین کی تیاری کے دوران مدنظر رکھنا چاہیے۔ماہرین نے بتایا کہ ہم ایسے منظرنامے کا تصور کرسکتے ہیں جن کے مطابق ویکسین کا ایک ڈوز ممکنہ طور پر نوجوانوں یا نوجوان خواتین کے لیے کافی ثابت ہو، جبکہ معمر مردوں کو ویکسین کے 3 ڈوز کی ضرورت پڑے۔کچھ عرصے پہلے ماہرین نے خیال ظاہر کیا تھا کہ ممکنہ طور پر مردوں کا مدافعتی نظام وائرس کے حملے کی ابتدا پر مناسب ردعمل ظاہر نہیں کرتا۔اس حوالے سے ہارمونز بھی کردار ادا کرتے ہیں، ایسٹروجن نامی ہارمون مدافعتی خلیات میں اینٹی وائرل ردعمل کو بڑھاتا ہے، جبکہ بیشتر جینز جو مدافعتی نظام کو ریگولیٹ کرتے ہیں وہ ایکس کروموسوم کی مدد سے متحرک ہوتے ہیں جو مردوں میں ایک اور خواتین میں 2 ہوتے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…