بدھ‬‮ ، 11 مارچ‬‮ 2026 

خواتین کا مدافعتی نظام کورونا وائرس کے خلاف زیادہ مضبوط قرار، ماہرین کا نئی تحقیق میں حیرت انگیز انکشاف

datetime 28  اگست‬‮  2020 |

واشنگٹن(این این آئی)نئے کورونا وائرس کی وبا کے آغاز سے یہ معلوم ہوچکا ہے کہ معمر مردوں میں اس سے سنگین حد تک بیمار ہونے اور موت کا خطرہ خواتین کے مقابلے میں زیادہ ہوتا ہے۔اس حوالے سے طبی ماہرین نے مختلف خیالات ظاہر کیے مگر اب ایک واضح جواب دیا گیا ہے کہ مردوں کے مقابلے میں خواتین میں اس بیماری کی شدت میں اضافے یا موت کا خطرہ مردوں کے مقابلے میں

کم کیوں ہے۔درحقیقت خواتین کا مدافعتی ردعمل مردوں کے مقابلے میں زیادہ طاقتور ہوتا ہے۔میڈیارپورٹس کے مطابق یہ بات امریکا میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی۔یالے یونیورسٹی کی تحقیق میں بتایا گیا کہ خواتین کے جسم مردوں کے مقابلے میں زیادہ مضبوط مدافعتی ردعمل کا اظہار کرتے ہیں۔طبی جریدے جرنل نیچر میں شائع تحقیق میں بتایا گیا کہ معمر خواتین بھی مردوں کے مقابلے میں زیادہ ٹی سیلز تیار کرتی ہیں جو وائرس کو پھیلنے سے روکتے ہیں۔تحقیق میں بتایا گیا کہ کووڈ 19 سے بیمار خواتین میں مرد مریضوں کے مقابلے میں ٹی سیلز کی سرگرمیاں نمایاں حد تک زیادہ ہوتی ہیں، اور یہ سرگرمیاں زیادہ عمر والی خواتین میں بھی دیکھی جاسکتی ہیں۔تحقیق کے مطابق مریضوں کی عمر اور ناقص ٹی سیلز ردعمل کے درمیان تعلق کو دیکھا گیا جو مردوں میں تو بدترین نتائج کا باعث مگر خواتین مریضوں میں ایسا نہیں ہوتا۔محققین کا کہنا تھا ککہ عمر بڑھنے کے ساتھ مردوں میں ٹی سیلز کے متحرک ہونے کی صلاحیت ختم ہونے لگتی ہے، اگر آپ جائزہ لیں گے تو معلوم ہوگا کہ جن لوگوں کے جسم ٹی سیلز بنانے میں ناکام رہتے ہیں، ان میں کووڈ 19 کے بدترین نتائج دیکھنے میں آئے۔اس تحقیق کے دوران ہسپتال میں زیرعلاج 17 مردوں اور 22 خواتین کو شامل کیا گیا تھا۔ان میں سے کوئی بھی مریض وینٹی لیٹر پر نہیں تھا جبکہ ادویات کا استعمال کرایا جارہا تھا جو مدافعتی نظام پر اثرات مرتب کررہا تھا۔محققین کا کہنا تھا کہ یہ تحقیق اس خیال کو تقویت پہنچاتی ہے کہ مریضوں کی جنس کو کورونا وائرس کی ویکسین کی تیاری کے دوران مدنظر رکھنا چاہیے۔ماہرین نے بتایا کہ ہم ایسے منظرنامے کا تصور کرسکتے ہیں جن کے مطابق ویکسین کا ایک ڈوز ممکنہ طور پر نوجوانوں یا نوجوان خواتین کے لیے کافی ثابت ہو، جبکہ معمر مردوں کو ویکسین کے 3 ڈوز کی ضرورت پڑے۔کچھ عرصے پہلے ماہرین نے خیال ظاہر کیا تھا کہ ممکنہ طور پر مردوں کا مدافعتی نظام وائرس کے حملے کی ابتدا پر مناسب ردعمل ظاہر نہیں کرتا۔اس حوالے سے ہارمونز بھی کردار ادا کرتے ہیں، ایسٹروجن نامی ہارمون مدافعتی خلیات میں اینٹی وائرل ردعمل کو بڑھاتا ہے، جبکہ بیشتر جینز جو مدافعتی نظام کو ریگولیٹ کرتے ہیں وہ ایکس کروموسوم کی مدد سے متحرک ہوتے ہیں جو مردوں میں ایک اور خواتین میں 2 ہوتے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



مذہبی جنگ(دوسرا حصہ)


بنی اسرائیل نے فلسطین واپسی کے بعد یہودا قبیلے…

مذہبی جنگ

رچرڈ نکسن امریکا کے 37ویں صدر تھے‘ یہ بھی ڈونلڈ…

اینڈ آف مسلم ورلڈ

ہمیں ایران امریکا جنگ کے نتیجے کو سمجھنے کے لیے…

عربوں کا کیا قصورہے؟

ایف 35 دنیا کا مضبوط اور مہلک ترین فائٹر جیٹ ہے‘…

اختتام کا آغاز

’’ہمارے پاس صرف 35 سال ہیں‘ ہم ان میں جتنا جی…

امانت خان شیرازی

بادشاہ اس وقت برہان پور میں تھا‘ مغل دور میں…

ہائوس آف شریف

جنرل غلام جیلانی نے جنرل ضیاء الحق کو آرمی چیف…

نواز شریف کی سیاست میں انٹری

لارنس گارڈن کے کرکٹ گرائونڈ میں میچ چل رہا تھا‘…

چوہے کھانا بند کریں

ہندوستان کا کوئی شہزادہ مہاتما بودھ کے پاس گیا…

رعونت پر بکھری ہوئی خاک

کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…