منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

کرونامریضوں میں ایک اور جان لیوا پیچیدگی کا انکشاف ،جانتے ہیں وائرس کے نتیجے میں اموات کی شرح کتنے فیصد نکلی؟

datetime 13  مئی‬‮  2020 |

واشنگٹن (این این آئی )نئے نوول کورونا وائرس سے ہونے والی بیماری کووڈ 19 کے مریضوں میں گردے فیل ہونے کا خطرہ بہت زیادہ ہوتا ہے۔میڈیارپورٹس کے مطابق یہ بات امریکا میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی۔نارتھ ویسٹرن یونیورسٹی کی تحقیق میں بتایا گیا کہ اکیوٹ کڈنی فیلیئر یا اے کے آئی کووڈ 19 کی ایک سنگین پیچیدگی ہے جس پر زیادہ توجہ نہیں گئی اور اچھی طرح سمجھا بھی نہیں گیا۔

تحقیق کے مطابق گردے فیل ہونے کا سامنا کرنے والے مریضوں میں کووڈ 19 کے نتیجے میں اموات کی شرح 50 فیصد ہے۔محققین کا کہنا تھا کہ ہسپتالوں میں خصوصاً آئی سی یو میں زیرعلاج مریضوں میں اے کے آئی کا خطرہ ہوتا ہے، درحقیقت 25 سے 30 فیصد مریضوں میں اس کا خطرہ ہوتا ہے۔اس تحقیق کے لیے سائنسدانوں نے چین میں حال ہی میں ہونے والی 2 تحقیقی رپورٹس کا تجزیہ کیا جس میں کووڈ 19 سے ہلاک ہونے والے مریضوں کے گردوں کے نمونوں کی تفصیلات دی گئی تھیں۔اس نئی تحقیق میں بتایا گیا کہ کووڈ 19 کے مریضوں میں اے کے آئی کی جو قسم نظر آرہی ہے وہ بہت پیچیدہ اور اس میں ایسے متعدد عناصر موجود ہیں جو عام اے کے آئی مریضوں میں نظر نہیں آتے۔ان منفرد عناصر میں کورونا وائرس کا گردوں پر حملہ، خون کے لوتھڑے بننا اور ورم قابل ذکر ہیں۔اس تحقیق کے نتائج جریدے جرنل آف دی امریکن سوسائٹی آف نیفرولوجی میں شائع ہوئے اور پہلی بار اس ممکنہ میکنزم پر روشنی ڈالی گئی کہ کس طرح گردے فیل ہونے کا مسئلہ کووڈ 19 کے مریضوں کو شکار کرسکتا ہے۔محققین کا کہنا تھا کہ نئے نتائج سے طبی عملے کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے کہ وہ کووڈ 19 کے مریضوں کے گردوں پر توجہ بڑھائیں اور گردوں کے افعال اور ساخت کے حوالے سے مناسب معلومات جمع کرنی چاہیے، کہ کس طرح اے کے آئی ان مریضوں میں نمودار ہوتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اس میکنزم کو زیادہ بہتر سمجھنے سے موثر علاج کی تشکیل میں مدد مل سکے گی خاص طور پر آئی سی یو میں زیرعلاج مریضوں کے لیے یہ بہت اہم ہے، کیونکہ ان میں سے بیشتر مریضوں کو ڈائیلاسز کی ضرورت ہوسکتی ہے۔اس سے قبل اپریل میں چینی سائنسدانوں کی جریدے جرنل کڈننی انٹرنیشنل میں شائع تحقیق میں کووڈ 19 سے ہلاک ہونے والے افراد کا بعد از مرگ پوسٹمارٹم کیا گیا اور 26 میں سے 9 میں گردوں کو نقصان پہنچنے کا انکشاف ہوا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…