جمعہ‬‮ ، 04 اپریل‬‮ 2025 

ہمارے ارگرد ایسے افراد کی کمی نہیں جو مذاق یا کسی بھی وجہ سے اکثر جھوٹ بولنے کے عادی ہوتے ہیں

datetime 19  ‬‮نومبر‬‮  2018
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

امریکا(مانیٹرنگ ڈیسک) کسی شخص کا جھوٹ پکڑنا بظاہر تو بہت مشکل یا لگ بھگ ناممکن سمجھا جاسکتا ہے اور ہمارے ارگرد ایسے افراد کی کمی نہیں جو مذاق یا کسی بھی وجہ سے اکثر جھوٹ بولنے کے عادی ہوتے ہیں۔ جھوٹ کو پکڑنا اتنا آسان کام تو نہیں مگر کوشش کی جائے تو بہت زیادہ مشکل بھی نہیں۔ امریکی فورس ایف بی آئی کے اسپیشل ایجنٹ ڈیوڈ شاویز نے ایک تقریب کے دوران کہا۔

لوگوں کے چہرے تاثرات، باڈی لینگویج اور بولنے کے انداز سے اندازہ یا بتایا جاسکتا ہے کہ کب کون جھوٹ بول رہا ہے۔ انہوں نے اس حوالے سے کچھ عادات یا چیزیں بھی بتائیں جن کی مدد سے لوگ کسی کے جھوٹ کو پکڑنے کی کوشش کرسکتے ہیں اور کسی دھوکے سے بچ سکتے ہیں۔ جھوٹے افراد کسی سوال کے تمام الفاظ کو دہرا دیتے ہیں۔ جھوٹے افراد اپنی دیانت پر حد سے زیادہ زور دینے کے لیے مختلف جملے استعمال کرتے ہیں جیسے ‘ آپ کو سچ بتانے کے لیے ‘، ‘ایمانداری تو یہ ہے’ یا ‘ قسم سے’ وغیرہ وغیرہ۔ ایسے افراد اپنی بات لمبے جملوں میں پوری کرنے کی کوشش کرتے ہیں یا مختصر کی جگہ طویل وضاحت پیش کرتے ہیں۔ جھوٹے افراد کی آنکھیں یہاں وہاں حرکت کررہی ہوتی ہیں جس کی وجہ ان کے اندر کی بے اطمینانی ہوتی ہے۔ جھوٹے افراد جھوٹ بولنے کے تناﺅ کے پیش نظر بہت زیادہ تیزی سے پلکیں جھپکاتے ہیں جیسے یاک سیکنڈ میں پانچ سے چھ بار۔ وہ افراد اپنے گالوں یا چہرے کو بہت زیادہ چھونے لگتے ہیں، جیسے تھوڑی کو مسلنا یا کسی اور چیز کو چھیڑنا وغیرہ۔ کچھ افراد جھوٹ بولتے ہوئے آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بھی دیکھتے ہیں پلک تک نہیں جھپکاتے جو غیرفطری عمل ہوتا ہے۔ اگر آپ کسی سے کوئی سوال پوچھے اور وہ اچانک ہی سر کو حرکت دے تو اس بات کا امکان زیادہ ہے کہ وہ جھوٹ بولنے والا ہے، ایسے افراد اپنے سر پیچھے یا آگے کی جانب جھکا دیتے ہیں یا سائیڈ پر ٹیڑھا کرلیتے ہیں۔ لوگ جھوٹ کیوں بولتے ہیں؟ ایسے افراد کے سانس لینے کا عمل بھی تبدیل ہوتا ہے اور جھوٹ بولنے والے کی سانسیں ہوسکتا ہے بھاری ہوجائیں، جو کہ ریفلکیس ایکشن ہوتا ہے، جب سانس کا عمل بدلتا ہے تو کندھے اوپر کی جانب جبکہ آواز دھیمی ہوجاتی ہے، سانس کے نظام میں تبدیلی درحقیقت نروس اور کشیدگی کا اثر ہوتا ہے۔ اکثر افراد نروس ہونے کے بعد جسمانی طور پر مضطرب یا حرکت کرنے لگتے ہیں مگر کچھ افراد افراد جھوٹ بولتے وقت جسمانی طور پر بالکل ساکت ہوجاتے ہیں، ایسا ان کا جسم ممکنہ ردعمل سے نمٹنے کے لیے کررہا ہوتا ہے۔ دوسری جانب جھوٹ بولنے کے دوران کچھ افراد اپنی ٹانگوں کو بار بار حرکت دینے لگتے ہیں کیونکہ وہ جھوٹ بولتے ہوئے نروس اور عدم اطمینان محسوس کررہے ہوتے ہیں۔

موضوعات:



کالم



چانس


آپ مورگن فری مین کی کہانی بھی سنیے‘ یہ ہالی ووڈ…

جنرل عاصم منیر کی ہارڈ سٹیٹ

میں جوں ہی سڑک کی دوسری سائیڈ پر پہنچا‘ مجھے…

فنگر پرنٹس کی کہانی۔۔ محسن نقوی کے لیے

میرے والد انتقال سے قبل اپنے گائوں میں 17 کنال…

نارمل معاشرے کا متلاشی پاکستان

’’اوئے پنڈی وال‘ کدھر جل سیں‘‘ میں نے گھبرا…

آپ کی امداد کے مستحق دو مزید ادارے

یہ2006ء کی انگلینڈ کی ایک سرد شام تھی‘پارک میںایک…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے (دوسرا حصہ)

بلوچستان کے موجودہ حالات سمجھنے کے لیے ہمیں 1971ء…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے؟ (پہلا حصہ)

قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں…

اچھی زندگی

’’چلیں آپ بیڈ پر لیٹ جائیں‘ انجیکشن کا وقت ہو…

سنبھلنے کے علاوہ

’’میں خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا تھا اور وہ مجھے…

ہم سیاحت کیسے بڑھا سکتے ہیں؟

میرے پاس چند دن قبل ازبکستان کے سفیر اپنے سٹاف…

تیسری عالمی جنگ تیار(دوسرا حصہ)

ولادی میر زیلنسکی کی بدتمیزی کی دوسری وجہ اس…