پیر‬‮ ، 14 ستمبر‬‮ 2026 

اگر آپ کو آدھے سر کا درد رہتا ہے تو لاپرواہی مت کریں اور فوراًڈاکٹر کے پاس جائیں ورنہ۔۔کینیڈا میں ہونیوالی طبی تحقیق میں دل دہلا دینے والی باتیں سامنے آگئیں

datetime 24  جولائی  2018 |

ٹورنٹو(سی ایم لنکس)آدھے سر کا درد خوشگوار تو کبھی نہیں ہوتا مگر اب طبی سائنس کا کہنا ہے کہ یہ ذہنی صحت کو ہمارے اندازوں سے بھی زیادہ نقصان پہنچانے کا باعث بنتا ہے۔ یہ بات کینیڈا میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی۔ ٹورنٹو یونیورسٹی کی تحقیق میں یہ بات سامنے آئی کہ جن لوگوں کو اکثر آدھے سر کا درد رہتا ہے، ان ذہنی تشویش اور بے چینی کے عارضے کا خطرہ تین گنا بڑھ جاتا ہے۔

اس تحقیق کے دوران 22 سو آدھے سر کے درد کے شکار افراد اور بیس ہزار اس سے محفوظ لوگوں کی ذہنی صحت کا جائزہ لیا گیا۔ نتائج سے معلوم ہوا کہ جن لوگوں کو مائیگرین کا درد شکار نہیں کرتا ان میں ذہنی امراض کا امکان بہت کم ہوتا ہے جبکہ یہ شرح آدھے سر کے درد کے شکار افراد میں چھ فیصد ہوتی ہے۔خواتین کے مقابلے میں یہ درد مردوں کی ذہنی صحت کو دوگنا زیادہ متاثر کرتا ہے۔ محققین کا کہنا تھا کہ ہم تحقیق کے نتائج پر حیران رہ گئے کیونکہ عام طور پر خواتین مردوں کے مقابلے میں ذہنی عارضوں کا شکار زیادہ ہوتی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس کی ممکنہ وجہ یہ ہوسکتی ہے کہ خواتین کے مقابلے میں مرد آدھے سر کے درد پر ادویات کا استعمال کم کرتے ہیں جس کے نتیجے میں اس تکلیف کی شدت بہت زیادہ بڑھ جاتی ہے اور ذہنی عارضے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ اگرچہ آدھے سر کے درد اور ذہنی صحت کے مسائل کو عام طور پر اکھٹے نہیں لیا جاتا ہے مگر اس تحقیق میں ان دونوں کے درمیان کئی لنکس ثابت ہوئے۔ تحقیق کے مطابق مائیگرین کے شکار افراد میں ڈپریشن کا خطرہ دوگنا زیادہ رہتا ہے جبکہ وہ کھلی جگہوں کے خوف یا فوبیا اور ذہنی طور پر جلد گھبراہٹ کا شکار بھی ہوسکتے ہیں۔ اس سے قبل گزشتہ سال امریکا کے ہاورڈ میڈیکل اسکول اور جرمنی کے انسٹی ٹیوٹ آف پبلک ہیلتھ کی تحقیق میں بتایا گیا تھا کہ آدھے سر کا درد دل کے امراض اور قبل از وقت موت کا خطرہ بڑھا دیتا ہے۔25

سے 42 سال کی عمر کی ایک لاکھ سے زائد خواتین پر دس سال تک ہونے والی تحقیق سے معلوم ہوا کہ مائیگرین کے شکار افراد میں اس عرصے کے دوران موت کا خطرہ 50 فیصد تک بڑھ جاتا ہے۔ محققین نے بتایا کہ نتائج سے اس بات کے مزید شواہد ملتے ہیں کہ آدھے سر کے درد کو خطرے کو خون کی شریانوں سے متعلقہ امراض کے حوالے سے خطرے کی ایک اہم علامت سمجھا جانا چاہئے، خصوصاً خواتین میں، تاہم اس کا اطلاق مردوں پر بھی ہوتا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)


ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…