منگل‬‮ ، 01 ستمبر‬‮ 2026 

’’ دودھ خالص ہے یا ملاوٹی ؟‘‘

datetime 24  اگست‬‮  2017 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)اشیائے خوردو نوش میں دودھ کو ایک مکمل غذا کہا جاتا ہے، جو بچوں اور بڑوں دونوں کے لئے یکساں مفید ہے، لیکن دودھ میں ملاوٹ اور پانی ملانے کی شکایات زبان زد عام ہے۔پاکستان میں ہر دوسرا گوالا دودھ میں پانی ملا کر بیچ رہا ہے کچھ ناعاقبت اندیش دودھ کو گاڑھا کرنے اور زیادہ عرصے تک محفوظ رکھنے کیلئے اسی میں مضر صحت کیمیکل

کا استعمال بھی کر رہے ہیں جس سے انسانی جانوں کو شدید خطرات لاحق ہو چکے ہیں۔ ایسے میں ہم آپ کو آلائشوں سے پاک دودھ کا معیار چیک کرنے کے گھریلو طریقے بتاتے ہیں۔ دودھ کا خالص پن اس کے گاڑھے پن میں چھپا ہوتا ہے۔ خواتین بھی گھروں میں اکثر یہ کہتے سنائی دیتی ہیں کہ آج تو دودھ بالکل پانی جیسا ہے یعنی یہ خالص نہیں۔ اس طریقہ میں آپ ایک ڈراپر کے ذریعے دودھ کا ایک قطرہ لے کر گھر میں ایسے ستون سے نیچے ٹپکائیں جو ماربل کا بنا ہوا ہو ، اگر تو دودھ خالص ہوا تو قطرہ فوری طور پر نہیں بہے گا۔ بازار یا گوالے سے خریدے ہوئے دودھ کا معیار چیک کرنے اور اسے دیر تک محفوظ رکھنے کے لئے ضروری ہے کہ فوری طور پر دودھ کو گرم کر لیں۔ دودھ گرم کرنے کے بعد اس پر جمنے والی ملائی سے اس کے خالص پن کا بڑی آسانی سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ اگر باقی رہ جانے والا ملائی میں تیل محسوس ہو تو مطلب دودھ خالص ہے ، اگر یہ خشک محسوس ہو تو دودھ میں ملاوٹ ہے ۔ یہاں ہم ایک سائنسی طریقہ بھی قارئین کی سہولت کےلئے پیش کر رہے ہیں جسے وہ با آسانی گھر میں اختیار کر کے دودھ میں ہونے والی ملاوٹ کا پتہ چلا سکتے ہیں،اس طریقہ میں ہائیڈروجن پرآکسائیڈ کی موجودگی جانی جاتی ہے۔ تھوڑا سا دودھ ایک ٹیسٹ ٹیوب میں ڈالیں اور پھر پیرافینلین ڈیامین  نامی مادہ کے چند قطرے

دودھ میں ڈال کراسے اچھی طرح ہلائیں، اگر دودھ کا رنگ نیلا ہو جاتا ہے تو اس کا مطلب ہے کہ دودھ میں ہائیڈروجن پرآکسائیڈ موجود ہے اور دودھ خالص نہیں۔ اس طریقہ کار کے لئے آپ کو میڈیکل سٹور سے ایک عدد ٹیسٹ ٹیوب اور پیرافینلین ڈیامین بھی خریدنا ہوگی .لیموں کارس: دودھ کو گرم کرنے کے بعد آدھا لیموں کا رس اس میں نچوڑ دیں، پھر چولہے پر موجود پتیلی میں

چمچ ہلائیں اگر تو یہ دودھ اچھی دہی میں تبدیل ہوجاتا ہے تو اس کا مطلب ہے کہ دودھ خالص ہے ، اگر یہ ‘جیلی ‘ کی طرح کا مادہ بن جائے تو مطلب دودھ خالص نہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)


میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…