بدھ‬‮ ، 14 جنوری‬‮ 2026 

دودھ کے نام پرٹی وائٹنر بیچنے کے دھندے کا خاتمہ،حقیقت عوام کے سامنے آگئی،زبردست اقدام

datetime 7  اپریل‬‮  2017 |

لاہور(این این آئی ) وزیر اعلی ٰ پنجاب محمد شہباز شریف کی ہدایت پرعوام کو صحت مند اور معیاری خوراک کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے پنجاب فوڈ اتھارٹی خوراک تیار کرنے کے مراحل اور فراہمی کی چیکنگ کے علاوہ خوراک سے متعلق قوانین میں جدت اور ان پر عمل درآمد پر بھی کا م کر رہی ہے۔ اس سلسلے میں ٹی وائٹنرز کو دودھ بنا کربیچنے کے حوالے سے قانون سازی کرتے ہوئے تمام ٹی وائٹنرز کو اپنے لیبل پر واضح

طور پر”یہ دودھ نہیں ہے”تحریر کرنے کا حکم دیا گیا تھا۔ اس حوالے سے اب تک مختلف کمپنیوں کے 11برانڈز نے نئی پیکنگ کی پنجاب فوڈ اتھارٹی سے منظوری لے لی ہے اور ٹی وائٹنر کے ڈبوں پر واضع طور پر “یہ دودھ نہیں ہے ” کی وارننگ لکھ دی گئی ہے۔گزشتہ ہفتے تمام کمپنیوں نے نئی پیکنگ کے سیمپل پنجاب فوڈ اتھارٹی میں منظوری کے لیے بھیجے تھے۔ ڈائریکٹر جنرل پنجاب فوڈ اتھارٹی نورالامین مینگل نے بورڈ اجلاس میں سائنٹیفک پینل سے مشاورت کے بعد نئی پیکنگ کی منظوری دی۔ اس حوالے سے ڈی جی فوڈ اتھارٹی نورالامین مینگل کا کہناتھا کہ لاعلمی کی وجہ سے ٹی وائٹنرکا استعمال بچوں کے لیے نقصان کا باعث بن رہا تھا۔پنجاب فوڈ اتھارٹی نے قوانین کے تحت تمام کمپنیوں کو یکم جون تک کی مہلت دی ہے کہ اپنے لیبلز پر واضح ہدایت درج کریں۔ وارننگ درج کرنے سے عام آدمی خالص دودھ اور ٹی وائٹنر میں فرق کر سکے گا اور مائیں ٹی وائٹنر کو دودھ سمجھ کربچوں نہیں پلائیں گی ۔ اب تک 11برانڈز کی پیکنگ کی منظوری دی جا چکی ہے۔قوانین کے مطابق بزنس ایڈجسٹمنٹ ٹائم کے تحت تمام کمپنیوں کو مہلت دی گئی تھی کہ یکم جون تک اپنا پرانا سٹاک ختم کر لیں اور یکم جون کے بعد تمام ٹی وائٹنر نئی پیکنگ میں ہی فروخت ہوں گے۔اگر کسی کمپنی کا ٹی وائٹنر نئی پیکنگ میں وارننگ کے بغیر فروخت ہوا تو اس کا لائسنس منسوخ اور قانونی کاروائی ہوگی۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ونڈر بوائے


یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…

جو نہیں آتا اس کی قدر

’’آپ فائز کو نہیں لے کر آئے‘ میں نے کہا تھا آپ…