اسلام آباد(نیوز ڈیسک )چہرے پر خوش گوار مسکراہٹ سجائے رکھنے سے انسان کی شخصیت میں سحر انگیز کشش تو پید اہوتی ہی ہے لیکن ساتھ ہی اس میں لبمی عمر کا راز بھی پوشیدہ ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ خوش مزاجی اور مسکراہٹ سے انسان کی صحت پر نہایت مفید اثرات مرتب ہوتے ہیں اور ایسے افراد جو ہر حال میں مسکراتے رہتے ہیں وہ مالی تنگدستی ، صحت کی خرابی اور گھریلو معاملات میں خرابی کے باوجود دیگر افراد کے مقابلے میں زیادہ عمر پاتے ہیں۔ یونیورسٹی آف کیرولینا کے سائنسدانوں نے 30 سال کے عرصے پر محیط اپنی تحقیق کے دوران 30 ہزار سے زائد افراد سے سوالات کیے جن میں ان سے پوچھا گیا کہ آپ اپنے موجودہ حالات کے بارے میں کیا کہتے ہیں، آیا آپ بہت خوش ہیں؟۔۔ یا زندگی قدرے خوشگوار گزررہی ہے ؟۔۔۔یا پھر آپ اپنے حالات پر دکھی اور ناخوش ہیں۔۔۔۔؟
تحقیق کے دوران مرنے والے افراد کی اموات کے ریکارڈ کا بھی تجزیہ کیا گیا جس میں انکشاف ہوا کہ ایسے افراد جو ناخوش اور دکھی رہتے ہیں ان کی زندگی کم ہونے کے امکانات ہنستے مسکراتے اور خوش مزاج افراد کے مقابلے میں 14 فیصد بڑھ جاتے ہیں۔ محققین کا کہنا ہے کہ ماہرین معاشیات طویل عمر کے لیے معاشی تحفظ جب کہ کرمنالوجسٹ پر تحفظ اور تشدد سے پاک زندگی اور ڈاکٹر صحت مندانہ زندگی کو اہم قرار دیتے ہیں لیکن خوشی جیسے اہم عنصر کو نظر انداز کردیا جاتا ہے۔لمبی عمر اور خوشی میں تعلق کی وضاحت کرتے ہوئے ماہرین کا کہنا ہے کہ خوش رہنے والے افراد میں خود کو درپیش مشکلات سے نمٹنے کی صلاحیت زیادہ ہوتی ہے اور ان کا حقلہ احباب بھی وسیع ہوتا ہے جس کی وجہ سے نہ صرف انہیں اپنے دکھ درد بانٹنے میں آسانی ہوتی ہے بلکہ دوست احباب کی وجہ سے مشکلات سے باہر آنے میں بھی مدد ملتی ہے۔ پرکشش آمدنی،جرائم سے پاک ماحول اور بنیادی صحت کی سہولتوں کی فراہمی سے یقیناً تحفظ اور تندرستی حاصل ہوتی ہے تاہم یہ چیزیں انسان کو خوش رکھنے کی ضمانت نہیں۔
امریکا کی لوما لنڈا یونی ورسٹی کی تحقیق کے مطابق ہنسنے کی عادت جسم میں تناو¿ پیدا کرنے والے ہارمون کے نقصانات کو کم کر دیتی ہے، ڈاکٹر لی برک کا کہنا ہے کہ آپ جتنے کم تناﺅ کا شکار ہوتے ہیں اتنا ہی آپ کی یاداشت کے لیے بہتر ہوتا ہے اور ہنسنا دماغ میں اینڈورفینز اور ڈوفامائن جیسے کیمیکل ہارمونز کا اخراج بڑھاتا ہے جو مسرت اور دیگر مثبت جذبات کا سبب بنتے ہیں اس لئے لوگوں کو ہنستے مسکراتے رہنا چاہیئے کیونکہ یہ تناو¿ یا ڈپریشن کے شکار افراد کے لیے نفسیاتی تھراپی سے زیادہ مفید ثابت ہوتا ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ حکومتوں کو عوام کی معاشی ترقی، طرز زندگی میں بہتری اور بہترین طبی سہولتیں فراہم کرنے کے ساتھ ایسے اقدامات بھی کرنے چاہئیں جس سے انہیں خوشی اور اطمینان حاصل ہو اور اس کے لیے ضروری ہے کہ لوگوں کو ایک دوسرے کے قریب لایا جائے، سماجی سرگرمیوں کو بڑھایا جائے اور شہروں کی خوبصورتی اور سبزے میں اضافہ کیا جائے، اس طرح کے مزید اقدامات سے لوگوں کو ذہنی تناو¿ سے نجات دلا کر ایک پرسکون اور خوشگوار زندگی گزارنے کی راہ پر گامزن کیا جاسکتا ہے۔
لمبی عمر کے خواہشمند لوگ بس آج سے یہ کام کرنا شروع کردیں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل کی فی لیٹر قیمت میں کمی کردی
-
کراچی کے نجی اسپتال میں بچے کی پیدائش کے معاملے کا ڈراپ سین ہوگیا
-
پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)
-
محمد عباس نے لارڈز ٹیسٹ میں ایسا اعزاز اپنے نام کرلیا جو عمران خان، گلین میگراتھ یا ایلن ڈونلڈ بھی ن...
-
مون سون بارشوں کے طاقتور سسٹم کی پاکستان میں انٹری! الرٹ جاری
-
اہلیہ حج پر ساتھ کیوں نہیں گئیں؟ وسیم اکرم نے بتا دیا
-
ویکیوم کلینر کے ذریعے بیوی کا افیئر پکڑنے والا شوہر، خود بھی عجیب مشکل میں پھنس گیا
-
سونے اور چاندی کی قیمتوں میں یکدم بڑی کمی
-
راولپنڈی،قریبی عزیز کا خاتون کو ٹک ٹاک لائیو پر کام کے لیے سرگودھا سے بلاکر جتماعی زیادتی
-
لاہور کے چڑیا گھر میں ٹک ٹاکر نے ’شیر‘ کے پنجرے میں چھلانگ لگادی
-
کراچی، ڈیلیوری آپریشن کے بعد ڈاکٹرز کا خاتون کے حمل سے انکار، اہل خانہ کا ہنگامہ، تحقیقات شروع
-
سانحہ پمز کی ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ وزیراعظم کو پیش،ہوشربا انکشافات سامنے آگئے
-
پب جی موبائل کے کنٹینٹ کریئیٹر فاروق احمد چل بسے، گیمنگ کمیونٹی سوگوار
-
رکشہ ڈرائیور نے جواں سالہ لڑکی کو مبینہ طور پر اغوا ء کرکے زیادتی کا نشانہ بناڈالا



















































