منگل‬‮ ، 16 جون‬‮ 2026 

پوری قوم کے ڈی این ٹیسٹ کا اندازہ لگا لیا : ماہرین

datetime 27  مارچ‬‮  2015 |

آئس لینڈ (نیوز ڈیسک ) تحقیق کاروں کا کہنا ہے کہ پوری قوم کے ڈی این اے کے متعلق مو¿ثر طریقے سے پتہ لگایا جا چکا ہے۔یہ کام ڈی این اے کو لوگوں کے شجرئنصب کے ساتھ ملا کر کیا گیا ہے۔ڈاکٹروں کی ٹیم کا کہنا ہے کہ وہ ایک بٹن دبانے سے اب ہر اس عورت کا پتہ چلا سکتے ہیں جس کو چھاتی کے سرطان کا خطرہ لاحق ہو سکتا ہے اور ان معلومات کو استعمال نہ کرنا جرم کرنے کے مترادف ہو گا۔جریدے ’نیچر جینیٹکس‘ میں چھپنے والی رپورٹ کے مطابق اس طرح کے اعداد وشمار کو استعمال کر کے بہت سی معلومات حاصل کی جا سکتی ہیں۔ڈی این اے ایک نسل سے دوسری نسل میں منتقل ہوتا ہے۔ اگر آپ کو بچے اور اس کے دادا دادی کے ڈی این اے کے متعلق پتہ ہو گا تو آپ اس کے والدین کے ڈی این اے کے متعلق بھی درست اندازے لگا سکتے ہیں۔دی ڈی کوڈ جینیٹکس ٹیم نے 10,000 افراد کے جینوم کی ترتیب تیار کی اور پھر اس کو پورے آئس لینڈ کے شجرے سے ملا دیا۔ڈی کوڈ کے چیف ایگزیکیٹو ڈاکٹر کاری سٹیفنسن نے بی بی سی کو بتایا کہ ’ہم ان طریقوں کو استعمال کر کے، کافی درستگی کے ساتھ، پوری قوم کا جینوم بتا سکتے ہیں۔‘بی آر سی اے جینز میں کسی تبدیلی کی وجہ سے سرطان کا خطرہ بڑھ جاتا ہے اور اسی وجہ ہالی ووڈ کی اداکارہ انجلینا جولی نے اپنی چھاتیوں اور بیضہ دانی کو آپریشن سے نکلوا دیا ہے۔ڈاکٹر سٹیفنسن کہتے ہیں کہ ’ہم آئس لینڈ میں ایک بٹن کے دبانے سے ان ساری خواتین کا پتہ لگا سکتے ہیں جن کی بی آر سی اے 2 جین میں میوٹیشن یا تبدیلی ہے۔اس سے فائدہ نہ اٹھانا جرم کے مترادف ہو گا اور میں امید کرتا ہوں میرے ہم وطن جلد اسے استعمال کرنا شروع کر دیں گے۔‘اب تک یہ ڈیٹا گمنامی میں پڑا ہے۔ اسے طب میں استعمال کرنے سے بہت سے اخلاقی سوال جنم لیں گے، جیسا کہ ان افراد میں مہلک بیماری کی جین کی شناخت جنھوں نے کبھی بھی رضاکارانہ طور پر تحقیق کے لیے اپنا ڈی این اے نہ پیش کیا ہو۔ڈاکٹر سٹیفنسن کہتے ہیں کہ ابھی اس پر بہت بحث ہونا باقی ہے ’لیکن میں پرانے طرز کا ڈاکٹر ہوں، میری چھٹی حس کہتی ہے کہ ان لوگوں کے پاس جانا چاہیے اور انھیں خبردار کرنا چاہیے۔‘وہ آئس لینڈ کے محکمہ صحت کے لوگوں سے پہلے ہی بات کر رہے ہیں۔انگلینڈ کا 100,000 جینومز پراجیکٹ اور صدر اوباما کا پریسیشن میڈیسن انیشی ایٹو دونوں ہی طب میں انقلابی تبدیلیاں لانا چاہتے ہیں۔جینومکس انگلینڈ کے سائنسدان پروفیسر مارک کالفیلڈ کہتے ہیں کہ یہ تحقیق بہت دلچسپ اور خوبصورت ہے۔انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ ’آئس لینڈ کی ٹیم کو مبارکباد دینا چاہیے کیونکہ وہ کئی برسوں سے آبادی کی سطح پر بیماری کی جینیاتی معلومات کو سمجھنے کے لیے کام کر رہی ہے۔‘انھوں نے کہا کہ پوری دنیا میں اس میں ہونے والی ترقی سے یہ پتہ چلتا ہے کہ ’ہم بڑے پیمانے پر ٹرانسفارمیٹو جینومک میڈیسن استعمال کرنے کی بلندیوں کو چھونے والے ہیں۔‘تاہم انھوں نے خبردار کیا کہ تبدیل شدہ بی آر سی اے2 کی کئی قسمیں ہیں اور ان کے متعلق خواتین کو بتانے سے پہلے ان کے متعلق یقین سے جان لینا ضروری ہے۔



کالم



Pale Blue Dot


کارل ایڈورڈ سیگن (Carl Edward Sagan) خلانورد اور پلانٹری…

نصیب کی مکھی

ٹومی فلیٹ ووڈ (Tommy Fleetwood) دنیا کا مشہور گالفر ہے‘…

8 بجے تک

میرا جم میرے گھر سے پانچ منٹ کی دوری پر ہے‘ میں…

ریو سیکریٹو

دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…