ہفتہ‬‮ ، 30 مئی‬‮‬‮ 2026 

ایبولا وائیرس پھیلنے کی وجہ سامنے آ گئی : رپورٹ

datetime 24  مارچ‬‮  2015 |

لندن(نیوز ڈیسک )فلاحی طبی ادارے ڈاکٹرز ود آو¿ٹ بارڈرز (ایم ایس ایف) نے کہا ہے کہ ایبولا کی مہلک وبا پھوٹنے کی وجہ’عالمی غفلت‘ تھی۔ایم ایس ایف نے ایبولا کی وبا پھوٹنے کے ایک سال بعد شائع ہونے والی رپورٹ میں کہا ہے کہ مقامی حکومتوں اور عالمی ادارہ صحت نے مدد کی ابتدائی درخواستیں نظرانداز کر دی تھیں جس کے باعث ایبولا کا وائرس تیزی سے پھیلا حالانکہ امداد کی ابتدائی درخواستوں پر عمل کر کے ایبولا کے خطرناک نتائج سے بچا جا سکتا تھا۔ایم ایس ایف کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس مرض کا شکار بننے والا پہلا فرد افریقی ملک گنی کا ایک بچہ تھا جو دسمبر 2013 میں ہلاک ہوا جب کہ 3 ماہ بعد عالمی ادارہ صحت نے وبا پھوٹنے کا باضابطہ اعلان کیا، وبا کو عالمی ہنگامی صورت حال قرار دینے میں مزید 5 ماہ لگ گئے لیکن اس وقت تک ایک ہزار سے زائد لوگ جان سے ہاتھ دھو چکے تھے۔ اگست کے اختتام تک لائبیریا میں صحت کے مراکز بے بس ہو چکے تھے جب کہ طبی عملہ متاثر مریضوں کو واپس گھروں کو بھیج رہا تھا حالانکہ انہیں معلوم تھا کہ یہ لوگ اپنے علاقوں میں جا کر دوسروں کو بھی مرض لگا سکتے ہیں۔ڈاکٹرز ود آو¿ٹ بارڈرز نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ اس وبا سے نمٹنے کے لیے مقامی حکومتوں کو خود سے بھی وسائل استعمال کرنے چاہیئے تھے۔ ایم ایس ایف کے مطابق ایبولا کی وبا اب بھی ختم نہیں ہوئی ہے، گنی میں سال کی ابتدا میں مریضوں کی تعداد کم ہونے کے بعد اب دوبارہ بڑھ رہی ہے۔ایم ایس ایف کے رابطہ کار ہینری گرے نے برطانوی نشریاتی ادارے کو بتایا کہ ہمیں گذشتہ سال مارچ ایبولا کے بارے میں علم ہو گیا تھا اور ہم نے اپریل میں نہ صرف عالمی ادارہ صحت بلکہ اس خطے کی مقامی حکومتوں کی توجہ بھی اس جانب مبذول کروانے کی کوشش کی تھی لیکن ہماری بات نہ سنی گئی، شاید یہی وجہ تھی کہ ایبولا اس قدر شدت اختیار کرگیا۔واضح رہے کہ عالمی ادارہ صحت کی ڈائریکٹر جنرل مارگریٹ چین نے بھی اس بات کا اعتراف کیا تھا کہ ہم نے یہ سمجھنے میں بہت دیر کی افریقی ممالک میں کیا ہو رہا ہے۔ ایبولا کے باعث گذشتہ ایک سال کے دوران 10 ہزار سے زائد افراد ہلاک ہوچکے ہیں جن میں سے زیادہ تر ہلاکتیں افریقی ملکوں گنی، لائبیریا اور سیرا لیون میں ہوئی ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



لکڑی کا تختہ


خوش قسمتی اور بدقسمتی میںلکڑی اور لوہے جیسا فرق…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…