اتوار‬‮ ، 31 مئی‬‮‬‮ 2026 

ٹک ٹاک اسٹار نے 97 کروڑ ڈالرز میں اپنی کمپنی فروخت کردی

datetime 30  جنوری‬‮  2026 |

نیویارک (این این آئی)بغیر کوئی ایک لفظ بولے دنیا کو ہنسانے والے ٹک ٹاک سپر اسٹار خابی لامے نے کاروباری میدان میں بھی میدان مارلیا۔عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق خابی لامے نے کورونا وبا میں فیکٹری کی نوکری ختم ہونے کے بعد سوشل میڈیا کا رخ کیا تھا۔جہاں وہ خاموش مزاحیہ اداکاری کرتے تھے۔ جس سے لوگوں کو چارلی چپلن کی یاد آگئی اور ان کے فالورز کی تعداد بڑھتی گئی۔یہاں تک کہ سینیگالی نژاد اطالوی خابی لامے کے ٹک ٹاک پر 161 ملین اور انسٹاگرام پر 77 ملین سے زائد فالوورز ہوگئے۔سوشل میڈیا پر شروع ہونے والا یہ سفر آج عالمی شہرت اور اربوں ڈالر کے کاروبار تک پہنچ چکا ہے۔ جس کا انداز ان کے ایک حالیہ کاروباری اقدام سے لگایا جا سکتا ہے۔

ٹک تاک اسٹار خابی لامے نے اپنی کمپنی اسٹیپ ڈسٹنکٹیو لمیٹڈ کو تقریبا 975 ملین ڈالرز میں فروخت کر دیا۔یہ کمپنی ان کے عالمی برانڈ، اشتہاری معاہدوں اور کمرشل سرگرمیوں کا مرکز تھی جسے ہانگ کانگ کی پبلک لسٹڈ ہولڈنگ فرم رِچ اسپارکل نے خریدا۔خریداری کے اس معاہدے کا دلچسپ پہلو یہ ہے کہ چین کی لائیو اسٹریمنگ اور ای کامرس کمپنی انہوئی ژیاہیانگ نیٹ ورک ٹیکنالوجی اگلے 36 ماہ تک خابی کے عالمی کمرشل منصوبوں کی خصوصی آپریٹنگ پارٹنر رہے گی۔

معاہدے کا ایک اور چونکا دینے والا پہلو یہ ہے کہ خابی لامے نے اپنی فیس آئی ڈی، وائس آئی ڈی اور مخصوص اشاروں کے ڈیٹا کو AI ڈیجیٹل ٹوئن بنانے کی اجازت بھی دے دی ہے۔اس کا مطلب یہ ہے کہ مستقبل میں خابی کا انداز اور اندازِ مزاح مختلف زبانوں میں خودکار طریقے سے تیار کیا جا سکے گا۔کمپنی کے بیان میں دعوی کیا گیا ہے کہ خابی کے مداحوں کی عالمی بنیاد کو مدنظر رکھتے ہوئے سالانہ 4 ارب ڈالرز سے زائد کی فروخت ممکن ہے۔ جس کی توجہ امریکا، مشرقِ وسطی اور جنوب مشرقی ایشیا پر ہوگی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



لکڑی کا تختہ


خوش قسمتی اور بدقسمتی میںلکڑی اور لوہے جیسا فرق…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…