شادی سے پہلے ہی ایک دوسرے سے محبت ہوگئی تھی، شہروز اور صدف کا اعتراف

  ہفتہ‬‮ 10 جولائی‬‮ 2021  |  0:02

کراچی (این این آئی)اداکار شہروز سبزواری اور سپر ماڈل و اداکارہ صدف کنول نے شادی کے ایک سال بعد اعتراف کیا ہے کہ دونوں ایک دوسرے کی محبت میں اس وقت ہی گرفتار ہوگئے تھے جب دونوں نے ایک ساتھ ایوارڈ شو میں پرفارمنس کی تھی۔صدف کنول اور شہروز سبزواری نے مئی 2020 میں خاموشی سے شادی کرلی تھی۔اس سے قبل ہی دونوں کے درمیان تعلقات کی خبریں سامنے آئی تھیں اور ایسی خبروں کے 6 ماہ بعد ہی دونوں نے شادی کرلی اور اب ایک سال بعد انہوں نے تمام افواہوں کو سچ مان لیا۔ دونوں نے اعتراف کیا


کہ ان کے درمیان 2019 میں ناروے میں ایک ایوارڈ شو میں پرفارمنس کرنے کے دوران ہی محبت پروان چڑھی تھی۔دونوں نے بتایا کہ وہ جب ناروے میں ہونے والے ایوارڈ شو کے لیے ریہرسل کر رہے تھے تب پہلی مرتبہ ان کے درمیان رومانوی جذبات پیدا ہوئے۔شہروز سبزواری نے بتایا کہ مذکورہ واقعے کے بعد جب وہ پاکستان آئے تو انہوں نے صدف کنول کو بتا دیا تھا کہ وہ ان سے شادی کریں گے۔شہروز سبزواری نے بتایا کہ اس وقت ان کے حالات خراب چل رہے تھے، اس لیے انہوں نے صدف کنول کو پہلے ہی بتادیا تھا کہ وہ ان سے شادی کریں گے۔انہوں نے بتایا کہ انہیں صدف کنول کی سب سے اچھی بات ان کی سچائی لگی، وہ ہر بات اور جذبے میں خالص ہیں، وہ کبھی کچھ نہیں چھپاتیں، ان کی سچائی ہی انہیں سب سے زیادہ پسند آئی۔اگرچہ شہروز سبزواری نے اعتراف کیا کہ ان کے اور صدف کنول کے درمیان ایوارڈ شو کی ریہرسل کے دوران ہی محبت پروان چڑھی لیکن انہوں نے اس بات کا ذکر نہیں کیا کہ ان کے تعلقات ہی ان کی طلاق کا سبب بنے؟اس وقت 2019 میں خبریں تھیں کہ شہروز سبزواری اور صدف کنول کے درمیان تعلقات کی وجہ سے ہی سائرہ یوسف ان سے الگ ہوگئیں اور بعد ازاں دونوں میں اسی معاملے کی وجہ سے طلاق بھی ہوگئی۔


موضوعات:

زیرو پوائنٹ

دو ہزاربچوں کا محسن

چترال کے دو حصے ہیں‘ اپر چترال اور لوئر چترال‘ دونوں اضلاع الگ الگ ہیں‘ لوئر چترال دریا کے کنارے آباد ہے اور وادی نما ہے جب کہ اپر چترال پہاڑوں پر چپکے‘ لٹکے اور پھنسے ہوئے دیہات کی خوب صورت ٹوکری ہے‘ ہم اتوار کی صبح اپر چترال کے ضلعی ہیڈ کوارٹر بونی کے لیے روانہ ہوئے‘ سفر مشکل ....مزید پڑھئے‎

چترال کے دو حصے ہیں‘ اپر چترال اور لوئر چترال‘ دونوں اضلاع الگ الگ ہیں‘ لوئر چترال دریا کے کنارے آباد ہے اور وادی نما ہے جب کہ اپر چترال پہاڑوں پر چپکے‘ لٹکے اور پھنسے ہوئے دیہات کی خوب صورت ٹوکری ہے‘ ہم اتوار کی صبح اپر چترال کے ضلعی ہیڈ کوارٹر بونی کے لیے روانہ ہوئے‘ سفر مشکل ....مزید پڑھئے‎