جمعہ‬‮ ، 09 اکتوبر‬‮ 2026 

تیل 120 ڈالر تک جانے کا خدشہ، مہنگائی کے نئے طوفان کا خطرہ بڑھ گیا

datetime 10  ستمبر‬‮  2026 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور آبنائے ہرمز کی صورتحال کے باعث عالمی سطح پر خام تیل کی سپلائی سے متعلق خدشات بڑھ گئے ہیں،

جس کے نتیجے میں عالمی منڈی میں تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی ہے۔ مارکیٹ میں خام تیل کے نرخ 110 سے 120 ڈالر فی بیرل تک پہنچنے کے امکانات بھی زیرِ بحث ہیں۔عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں مسلسل اضافے کا اثر پاکستان پر بھی پڑ سکتا ہے۔ مہنگا خام تیل ملک کے درآمدی بل، زرمبادلہ کی طلب اور پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا باعث بن سکتا ہے۔ حکومتی ذرائع کے مطابق اگر عالمی قیمتوں میں اضافے کا سلسلہ برقرار رہا تو آئندہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے تعین کے دوران حکومت کو مشکل فیصلے کرنا پڑ سکتے ہیں۔خام تیل کے نرخ بڑھنے کی صورت میں پٹرول اور ڈیزل مہنگے ہونے کا امکان ہے، جس سے ٹرانسپورٹ اور مال برداری کے اخراجات میں بھی اضافہ ہوسکتا ہے۔ اس کے نتیجے میں اشیائے خورونوش سمیت دیگر ضروری سامان کی قیمتوں پر بھی اضافی دباؤ آنے کا خدشہ ہے۔

ماہرین کے مطابق توانائی کی عالمی قیمتوں میں اضافہ بجلی کی پیداوار کی لاگت اور فیول ایڈجسٹمنٹ کو بھی متاثر کرسکتا ہے۔ ایسی صورتحال میں بجلی کے صارفین کو زیادہ بلوں کا سامنا کرنا پڑنے کا امکان موجود ہے۔معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان کے لیے صورتحال اس وقت زیادہ تشویشناک ہوسکتی ہے جب عالمی منڈی میں خام تیل 120 ڈالر فی بیرل کے قریب پہنچنے کے بعد کئی ہفتوں تک اسی بلند سطح پر برقرار رہے۔ مہنگا تیل، بڑھتا ہوا درآمدی بل اور روپے پر دباؤ ملکی معیشت کے لیے بیک وقت بڑے چیلنجز پیدا کرسکتے ہیں۔ماہرین کے مطابق حکومت کے لیے بنیادی چیلنج یہ ہوگا کہ عالمی تیل کی قیمتوں میں اضافے کا اثر عوام پر کم سے کم منتقل کرتے ہوئے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں، مہنگائی اور حکومتی آمدن کے درمیان توازن برقرار رکھا جائے۔موجودہ عالمی صورتحال نے ایک بار پھر یہ سوال اہم بنا دیا ہے کہ اگر خام تیل کی قیمت 120 ڈالر فی بیرل تک پہنچ جاتی ہے تو پاکستان میں پٹرول، بجلی کے بلوں اور عام شہری کے ماہانہ بجٹ پر اس کے اثرات کس حد تک بڑھ سکتے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دسواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(نواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(آٹھواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…