اسلام آباد (نیوز ڈیسک) سوئی ناردرن گیس کمپنی کی جانب سے ایل این جی کی بنیاد پر گھریلو کنکشن حاصل کرنے والے صارفین کو گزشتہ ماہ غیر معمولی طور پر زیادہ گیس بل موصول ہونے کا معاملہ سامنے آیا ہے، جس کے باعث متاثرہ گھرانوں کے ماہانہ بجٹ پر اضافی بوجھ پڑ گیا۔
ذرائع کے مطابق عالمی منڈی میں ایل این جی کی قیمت بڑھنے کے اثرات درآمدی گیس استعمال کرنے والے گھریلو صارفین کی بلنگ پر بھی مرتب ہوئے۔ گزشتہ ماہ ایل این جی کی قیمت تقریباً 7 ہزار 200 روپے فی ایم ایم بی ٹی یو تک پہنچ گئی، جسے بنیاد بنا کر متعلقہ صارفین کے بل تیار کیے گئے۔
بتایا جاتا ہے کہ اس سے پہلے ایل این جی پر مبنی گھریلو کنکشنز کے لیے تقریباً 3 ہزار 700 روپے فی ایم ایم بی ٹی یو کے حساب سے بلنگ کی جارہی تھی۔ قیمت میں اضافے کے بعد گیس کی فی یونٹ لاگت تقریباً دوگنی ہوگئی، جس کا واضح اثر صارفین کے ماہانہ بلوں میں نظر آیا۔
ذرائع کے مطابق عالمی توانائی مارکیٹ میں پیدا ہونے والی غیر یقینی صورتحال اور قیمتوں میں اتار چڑھاؤ نے ایل این جی کے نرخ بھی متاثر کیے۔ امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ کے باعث عالمی سطح پر توانائی کی سپلائی اور قیمتوں کے حوالے سے خدشات بڑھے، جس کے نتیجے میں ایل این جی مارکیٹ میں بھی نمایاں تبدیلیاں دیکھنے میں آئیں۔
اگرچہ عالمی سطح پر ایل این جی کے نرخوں میں مسلسل تبدیلی آتی رہی، تاہم گزشتہ ماہ کی قیمت کو مدنظر رکھتے ہوئے ایل این جی کنکشن رکھنے والے گھریلو صارفین کی بلنگ کی گئی۔ اس صورتحال کے نتیجے میں کئی صارفین کو معمول کے مقابلے میں کہیں زیادہ رقم کے بل موصول ہوئے۔
واضح رہے کہ ملک میں گیس کی بڑھتی ہوئی ضروریات اور مقامی ذخائر محدود ہونے کے باعث وفاقی حکومت نے ایل این جی کی بنیاد پر گھریلو صارفین کو نئے گیس کنکشن فراہم کرنے کی اجازت دی تھی۔ اس فیصلے کے بعد سوئی ناردرن گیس کمپنی نے مختلف صارفین کو ایل این جی پر مبنی میٹرز اور کنکشن فراہم کیے۔
ایل این جی کنکشنز کی قیمت درآمدی گیس کی لاگت اور عالمی مارکیٹ کے نرخوں سے منسلک ہونے کے باعث ان صارفین کی بلنگ مقامی گیس استعمال کرنے والے صارفین سے مختلف ہوتی ہے۔ عالمی مارکیٹ میں قیمت بڑھنے کی صورت میں اس کا اثر براہِ راست ایل این جی کنکشن رکھنے والے صارفین کے بل پر پڑتا ہے۔
زیادہ بل موصول ہونے کے بعد متاثرہ صارفین میں تشویش بھی بڑھ گئی ہے۔ صارفین کا مؤقف ہے کہ کنکشن دیتے وقت انہیں عالمی مارکیٹ میں ایل این جی کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کے ممکنہ اثرات اور بلنگ کے طریقہ کار سے واضح طور پر آگاہ کیا جانا چاہیے تاکہ وہ اپنے گھریلو اخراجات کی بہتر منصوبہ بندی کرسکیں۔
دوسری جانب توانائی کے شعبے سے وابستہ ذرائع کا کہنا ہے کہ درآمدی ایل این جی کے نرخ عالمی مارکیٹ کے علاوہ سپلائی، شپنگ اور دیگر عوامل سے بھی متاثر ہوتے ہیں، اسی لیے ایل این جی پر مبنی کنکشن کی گیس مقامی گیس کے مقابلے میں مہنگی ہوسکتی ہے۔
ایل این جی کی قیمتوں میں اضافے نے ایسے گھرانوں کے مالی مسائل میں مزید اضافہ کردیا ہے جو پہلے ہی توانائی کے بڑھتے ہوئے اخراجات سے متاثر ہیں۔ بھاری گیس بلوں کے باعث صارفین کے ماہانہ بجٹ پر اضافی دباؤ پیدا ہوگیا ہے۔
متاثرہ صارفین نے حکومت اور متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ ایل این جی کنکشنز کی قیمتوں، بلنگ کے فارمولے اور عالمی نرخوں سے اس کے تعلق کو واضح کیا جائے۔ صارفین نے یہ بھی زور دیا ہے کہ غیر معمولی عالمی قیمتوں کی صورت میں ممکنہ ریلیف کے اقدامات پر غور کیا جائے۔
یوں عالمی مارکیٹ میں ایل این جی کی قیمتوں میں ہونے والی تبدیلیاں اب درآمدی گیس استعمال کرنے والے پاکستانی گھریلو صارفین کے ماہانہ بجٹ کو بھی براہِ راست متاثر کررہی ہیں۔



















































