اتوار‬‮ ، 06 ستمبر‬‮ 2026 

سندر انڈسٹریل اسٹیٹ میں سیل ڈیڈز نامکمل، خزانے کو 70 کروڑ سے زائد کا نقصان

datetime 8  اگست‬‮  2026 |

لاہور( این این آئی)سندر انڈسٹریل اسٹیٹ میں سیل ڈیڈز پر عملدرآمد نہ ہونے سے سرکاری خزانے کو 70 کروڑ 96 لاکھ 64 ہزار روپے کے ریونیو نقصان کا انکشاف ہوا ہے۔

پبلک اکائونٹس کمیٹی ون میں زیر سماعت آڈٹ رپورٹ میں سندر انڈسٹریل اسٹیٹ کے 125 صنعتکاروں کی جانب سے سیل ڈیڈز مکمل نہ کرنے کی نشاندہی کی گئی۔ آڈٹ رپورٹ کے مطابق مجموعی طور پر 339 صنعتکاروں کو کمپلیشن سرٹیفکیٹ جاری کیے گئے تاہم ان میں سے صرف 214 صنعتکاروں نے سیل ڈیڈز مکمل کیں۔دوسری جانب 125 صنعتکاروں نے کمپلیشن سرٹیفکیٹ حاصل کرنے کے باوجود سیل ڈیڈز مکمل نہیں کیے جس کے باعث متعلقہ صنعتی پلاٹس آڈٹ اعتراض کی زد میں آگئے۔آڈٹ رپورٹ میں بتایا گیا کہ سیل ڈیڈز مکمل نہ ہونے کے باعث ڈیوٹیز اور ٹیکسز کی مد میں 70 کروڑ 96 لاکھ 64 ہزار روپے وصول نہیں ہوسکے۔

رپورٹ کے مطابق سیل ڈیڈز مکمل نہ کرنے والے 125 صنعتی پلاٹس کا مجموعی رقبہ 213 ایکڑ سے زائد ہے، جبکہ ڈی سی ریٹ 5 لاکھ روپے فی مرلہ مقرر تھا۔آڈٹ رپورٹ میں مزید نشاندہی کی گئی کہ متعلقہ انتظامیہ نے صنعتکاروں کو سیل ڈیڈز مکمل کرنے کی ہدایت نہیں کی اور تاخیر کے باعث سرکاری واجبات کی وصولی متاثر ہوئی۔اس دوران ایس ڈی اے سی نے سیل ڈیڈز کی تکمیل کا معاملہ عدالتی فیصلے تک موخرکردیا۔پبلک اکائونٹس کمیٹی ون نے انتظامیہ کو سیل ڈیڈز کی تکمیل کے لیے کیس بھرپور انداز میں آگے بڑھانے کی ہدایت کی ہے۔سندر انڈسٹریل اسٹیٹ کے صنعتکاروں نے موجودہ ڈی سی ریٹ کو عدالت میں چیلنج کر رکھا ہے۔ صنعتکاروں کا موقف ہے کہ موجودہ ڈی سی ریٹ پی آئی ای ڈی ایم سی کی قابل اطلاق فروخت قیمت سے زیادہ ہے۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)


ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…