اسلام آباد (نیوز ڈیسک) امریکا نے سیاحتی اور کاروباری ویزوں کے حصول کے لیے نئے سخت ضوابط نافذ کر دیے ہیں، جن کے تحت اب 50 ممالک کے شہریوں کو درخواست جمع کراتے وقت 15 ہزار ڈالر بطور قابلِ واپسی سیکیورٹی جمع کرانا ہوگی۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ اقدام امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کی جانب سے امیگریشن پالیسی کو مزید سخت بنانے کے سلسلے کا حصہ ہے۔ اس نئی توسیع کے بعد مزید 12 ممالک کو اس پروگرام میں شامل کیا گیا ہے، جبکہ اس سے قبل 38 ممالک پہلے ہی اس فہرست میں شامل تھے۔
نئے قواعد کے مطابق یہ شرط خاص طور پر مختصر مدت کے سیاحتی اور کاروباری ویزوں پر لاگو ہوگی۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس پالیسی کا مقصد ان افراد کی حوصلہ شکنی کرنا ہے جو ویزا کی مدت ختم ہونے کے باوجود امریکا میں قیام جاری رکھتے ہیں۔
پالیسی کے تحت اگر ویزا ہولڈر مقررہ وقت پر اپنے ملک واپس آ جائے یا ویزا ملنے کے باوجود سفر نہ کرے تو جمع کرائی گئی رقم مکمل طور پر واپس کر دی جائے گی۔ جن نئے ممالک کو اس فہرست میں شامل کیا گیا ہے ان میں کمبوڈیا، ایتھوپیا، جارجیا، گریناڈا، لیسوتھو، ماریشس، منگولیا، موزمبیق، نکاراگوا، پاپوا نیو گنی، سیشلز اور تیونس شامل ہیں۔
امریکی حکام کے مطابق اس پروگرام سے غیر قانونی طور پر قیام کرنے والوں کی تعداد میں کمی لانے میں مدد ملی ہے، تاہم انسانی حقوق کی تنظیموں نے اس اقدام پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے سفر کی آزادی اور قانونی حقوق متاثر ہو سکتے ہیں۔
یہ پالیسی امریکا کی مجموعی سخت امیگریشن حکمت عملی کا حصہ ہے، جس میں ویزا منسوخی، ملک بدری اور درخواست گزاروں کی مزید سخت جانچ پڑتال جیسے اقدامات بھی شامل ہیں۔



















































