اسلام آباد (نیوز ڈیسک) پاکستان میں تعینات روسی سفیر البرٹ پی خوریف نے کہا ہے کہ روس پاکستان کو کم قیمت پر تیل فراہم کرنے کے لیے تیار ہے، تاہم اس کے لیے پاکستان کو باضابطہ طور پر رابطہ کرنا ہوگا۔
اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے روسی سفیر کا کہنا تھا کہ اب تک ان کے علم میں نہیں آیا کہ پاکستان نے تیل کی خریداری کے لیے روس سے کوئی رابطہ کیا ہو۔ انہوں نے کہا کہ اگر پاکستان دلچسپی ظاہر کرے تو روس اسے رعایتی نرخوں پر تیل فراہم کر سکتا ہے۔ ان کے مطابق توانائی کا شعبہ دونوں ممالک کے درمیان تعاون کا ایک اہم ذریعہ ہے۔البرٹ پی خوریف نے ایران سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ روس اور ایران کے درمیان طویل عرصے سے فوجی اور تکنیکی تعاون جاری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کا ردعمل خطے میں موجود امریکی فوجی تنصیبات کے خلاف تھا، تاہم موجودہ صورتحال نہایت پیچیدہ اور غیر یقینی ہے، اس لیے مزید تبصرہ کرنا مناسب نہیں۔ روسی سفیر نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسیوں پر دنیا بھر میں حیرت کا اظہار کیا جا رہا ہے، جبکہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کب ختم ہوگی، اس بارے میں کچھ کہنا مشکل ہے۔
انہوں نے ایران میں ایک اسکول پر ہونے والے حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اس واقعے میں بڑی تعداد میں بچوں کی ہلاکت افسوسناک ہے۔ انہوں نے تمام فریقین پر زور دیا کہ وہ طاقت کے استعمال سے گریز کریں اور تنازعات کا حل اقوام متحدہ کے چارٹر کے مطابق سیاسی اور سفارتی ذرائع سے تلاش کریں۔
روسی سفیر کے مطابق امریکا اور اسرائیل کی جانب سے طاقت کے استعمال نے خطے میں کشیدگی کو مزید بڑھا دیا ہے، اور اس کے نتیجے میں ایران کی قیادت کو کمزور کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اسلامی دنیا میں اختلافات کو ہوا دینے کی کوششیں بھی جاری ہیں۔



















































