کراچی(این این آئی)پاکستان بزنس مین اینڈ انٹیلیکچوئلز فورم اور آل کراچی انڈسٹریل الائنس کے صدر، نیشنل بزنس گروپ پاکستان کے چیئرمین، ایف پی سی سی آئی کی پالیسی ایڈوائزری بورڈ کے سربراہ اور سابق صوبائی وزیر میاں زاہد حسین نے کہا ہے کہ امریکا، اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری لڑائی کے باعث پاکستان کو سنگین معاشی چیلنجز کا سامنا ہوسکتا ہے،
جبکہ وزیراعظم شہباز شریف کے کفایت شعاری اقدامات موجودہ صورتحال میں انتہائی اہم اور بروقت ہیں۔ بدھ کے روز تاجر برادری سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مشرقِ وسطی میں بڑھتی ہوئی جغرافیائی کشیدگی عالمی معیشت اور توانائی کی منڈیوں پر گہرے اثرات مرتب کر رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس صورتحال میں قومی اتحاد اور فوری معاشی حکمت عملی ناگزیر ہے تاکہ عوام اور صنعتی شعبے کو عالمی توانائی بحران کے ممکنہ منفی اثرات سے محفوظ رکھا جا سکے۔میاں زاہد حسین نے کہا کہ مشرقِ وسطی میں اہم بحری گزرگاہ ابنائے ہرمز کی بندش کے باعث عالمی سپلائی چین متاثر ہو رہی ہے، جس کا سب سے زیادہ اثر ان ممالک پر پڑ رہا ہے جو درآمدات پر انحصار کرتے ہیں۔ پاکستان چونکہ پیٹرولیم مصنوعات اور مائع قدرتی گیس (LNG) کے لیے بڑی حد تک خلیجی ممالک پر انحصار کرتا ہے، اس لیے عالمی توانائی منڈی میں اچانک اتار چڑھا تشویشناک ہے۔ انہوں نے کہا کہ تنازع کے باعث برینٹ خام تیل کی قیمت 80 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر چکی ہے اور مد و جزر کا شکار ہے، جس کے نتیجے میں ملک میں پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمتوں میں تقریبا 55 روپے فی لیٹر اضافہ ہو چکا ہے۔ ان کے مطابق ایندھن کی قیمتوں میں یہ غیر معمولی اضافہ مہنگائی کو تیزی سے بڑھا رہا ہے، کرنٹ اکانٹ خسارے میں اضافہ کر رہا ہے اور صنعتی شعبے میں کاروبار کی لاگت میں نمایاں اضافہ کر رہا ہے۔ میاں زاہد حسین نے وزیراعظم میاں شہباز شریف سے اپیل کی کہ صنعتی لاگت میں متوقع اضافے کے باعث ملکی ایکسپورٹس میں کمی ہونے کی توقعات ہیں جن کا مقابلہ کرنے کے لیے حکومت کنٹنجنسی فنڈ سے صنعتوں کی اضافی لاگت کا بوجھ برداشت کرے تو ملکی ایکسپورٹس میں متوقع کمی اور کرنٹ اکانٹ ڈیفیسٹ میں اضافیکو روکا جا سکتا ہے۔
میاں زاہد حسین نے موجودہ مالی دبا کے تناظر میں وزیراعظم شہباز شریف کے حالیہ 18 نکاتی کفایت شعاری پلان کو بروقت اور ضروری قرار دیتے ہوئے کہا کہ حکومتی اقدامات کمزور معیشت کو سہارا دینے میں اہم کردار ادا کریں گے اور عوام پر مزید مالی بوجھ ڈالنے سے بچائیں گے۔ انہوں نے حکومت کی ان ہدایات کو سراہا جن کے تحت غیر ضروری عملے کے لیے 50 فیصد ورک فرام ہوم پالیسی، سرکاری دفاتر کے لیے چار روزہ ورکنگ ویک اور تعلیمی اداروں کو عارضی طور پر آن لائن تعلیم کی طرف منتقل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ ایندھن کے استعمال اور سفری اخراجات میں کمی لائی جا سکے۔ میاں زاہد حسین نے مزید کہا کہ سرکاری اخراجات میں کمی کے اقدامات بھی قابلِ تعریف ہیں جن میں 60 فیصد سرکاری گاڑیوں کو بند کرنا، آئندہ دو ماہ کے لیے سرکاری ایندھن کوٹہ آدھا کرنا اور غیر تنخواہی اخراجات میں 20 فیصد کمی شامل ہے۔ اس کے علاوہ کابینہ ارکان کا دو ماہ کی تنخواہیں نہ لینے اور اراکین پارلیمنٹ کی تنخواہوں میں 25 فیصد کمی کا فیصلہ عوام کے ساتھ یکجہتی کا اہم پیغام ہے۔میاں زاہد حسین نے تاجر برادری اور عوام سے اپیل کی کہ وہ قومی سطح پر ایندھن کی بچت کی مہم میں حکومت کا بھرپور ساتھ دیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ مسلسل مہنگائی اور توانائی کی بلند قیمتوں کے باعث اسٹیٹ بینک کو بھی مونیٹری پالیسی سازی میں مشکلات کا سامنا ہو سکتا ہے، جبکہ صنعتوں کے منافع میں کمی اور قرضوں کی لاگت زیادہ رہنے کا امکان ہے۔ انہوں نے صنعتکاروں پر زور دیا کہ وہ توانائی کے استعمال کو مثر بنائیں اور جہاں ممکن ہو سپلائی چین کو مقامی سطح پر مضبوط کریں تاکہ طویل عالمی بحران کے اثرات کا مقابلہ کیا جا سکے۔



















































