اسلام آباد(نیوز ڈیسک ) ایران پر امریکا اور اسرائیل کی کارروائیوں کے بعد خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی نے پاکستان کی اسٹاک مارکیٹ کو شدید دھچکا پہنچایا،
جس کے نتیجے میں منڈی میں غیر معمولی مندی دیکھنے میں آئی اور کاروبار عارضی طور پر روک دیا گیا۔پیر کے روز جیسے ہی لین دین کا آغاز ہوا، فروخت کا دباؤ اس قدر بڑھ گیا کہ کے ایس ای 100 انڈیکس میں ریکارڈ کمی سامنے آئی۔ ابتدا ہی میں انڈیکس 15 ہزار سے زائد پوائنٹس نیچے آگیا اور 1 لاکھ 52 ہزار 940 کی سطح تک گر گیا۔انڈیکس میں 9 فیصد سے زیادہ کمی ہونے پر مارکیٹ ہالٹ کی حد عبور ہو گئی، جس پر پاکستان اسٹاک ایکسچینج کی انتظامیہ نے فوری طور پر ٹریڈنگ معطل کر دی۔ بعد ازاں کاروبار بحال ہونے پر بھی مندی کا رجحان برقرار رہا اور دن کے اختتام تک 100 انڈیکس 16 ہزار 89 پوائنٹس کی کمی کے ساتھ 1 لاکھ 51 ہزار 774 پوائنٹس پر بند ہوا۔ مجموعی طور پر مارکیٹ میں 9.29 فیصد گراوٹ ریکارڈ کی گئی۔
عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں تیزی اور ممکنہ علاقائی جنگ کے خدشات نے سرمایہ کاروں میں خوف و ہراس پیدا کیا، جس کے باعث بڑے پیمانے پر پینک سیلنگ دیکھنے میں آئی۔ ماہرین معاشیات کے مطابق اس شدید مندی کی بنیادی وجہ جغرافیائی و سیاسی صورتحال ہے۔خلیجی خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث سپلائی چین متاثر ہونے اور پیٹرولیم مصنوعات مہنگی ہونے کے خدشات نے سرمایہ کاروں کے اعتماد کو شدید نقصان پہنچایا، جس کا براہ راست اثر مقامی مارکیٹ پر پڑا۔



















































