لاہور( این این آئی)فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے 38 معروف یوٹیوبرز، ٹک ٹاک اسٹارز اور سوشل میڈیا انفلوئنسرز کے خلاف ریکوری کارروائی کا آغاز کر دیا ہے
جو مبینہ طور پر آمدن چھپانے اور غیر واضح ذرائع سے حاصل شدہ تقریباً 15 ارب روپے کی دولت رکھتے ہیں۔میڈیا رپورٹ میں ذرائع کے حوالے سے بتایا گیا کہ ایف بی آر ان انفلوئنسرز کے خلاف کارروائی کرے گا جو ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر اپنی دولت اور اخراجات کی نمائش کرتے ہیں لیکن ٹیکس ادا کرنے سے گریزاں ہیں یا اپنی آمدن اور اثاثے چھپاتے ہیں۔ایف بی آر کے لائف اسٹائل مانیٹرنگ سیل نے ان افراد کے غیر ظاہر شدہ اخراجات، ان کی ظاہر کردہ آمدن اور طرزِ زندگی میں واضح فرق، اور بڑے پیمانے پر آمدن چھپانے کی نشاندہی کی ہے۔ایف بی آر ان یوٹیوبرز اور سوشل میڈیا انفلوئنسرز کا انکم ٹیکس آڈٹ کرے گا اور گزشتہ کئی برسوں کے دوران ادا نہ کیے گئے ٹیکس اور آمدن چھپانے پر عائد جرمانے کی وصولی کرے گا۔ متعدد کیسز میں فیلڈ فارمیشنز نے پہلے ہی تفصیلی آڈٹ شروع کر دیا ہے۔سیل نے 38 یوٹیوبرز، ٹک ٹاک اسٹارز اور سوشل میڈیا انفلوئنسرز کے جامع آڈٹ، آمدن چھپانے کے نوٹسز جاری کرنے اور ٹیکس کی وصولی کے لیے نئی تشخیص کی سفارش کی ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ ڈائریکٹوریٹ جنرل انٹیلی جنس اینڈ انویسٹی گیشن اِن لینڈ ریونیو کے لائف اسٹائل مانیٹرنگ سیل نے متعلقہ فیلڈ فارمیشنز کو ضروری کارروائی کے لیے انٹیلی جنس ایڈوائزریز جاری کر دی ہیں۔
سیل کے مطابق ان یوٹیوبرز کی انکم ٹیکس گوشواروں میں ظاہر کردہ آمدن ان کے حقیقی طرزِ زندگی سے مطابقت نہیں رکھتی۔ کئی معاملات میں شواہد اس بات کی تائید کرتے ہیں کہ بھاری مقدار میں چھپائی گئی آمدن ان کے پرتعیش طرزِ زندگی پر خرچ کی گئی، جو ٹیکس حکام کے سامنے ظاہر نہیں کی گئی تھی۔



















































