کراچی(آن لائن)اسٹیٹ بینک اور پاکستان اسٹاک ایکس چینج میں جمعتہ الوداع اور عید الفطر کی تعطیلات کا اعلان کردیا گیا ہے ۔اسٹیٹ بینک اور پاکستان اسٹاک ایکس چینج سے جاری ہونے والے اعلامیئے کے مطابق اسٹیٹ بینک اور اسٹاک مارکیٹ 7مئی کو جمعتہ الوداع کے موقع پر بند رہیں گے جبکہ عید الفطر کے سلسلے میںبھی حکومت کے اعلان کے مطابق 10مئی سے15مئی تک تعطیلات ہوں گی۔
دوسری جانب گورنر اسٹیٹ بینک ڈاکٹر رضا باقر نے کہا ہے کہ پائیدار ترقی کی فنانسنگ وقت کی ضرورت ہے اور مالی اداروں کا اس شعبے میں بے حد اہم کردار ہے۔ وہ اسٹیٹ بینک اور یونی لیور کی جانب سے مشترکہ طور پر منعقدہ ویبنار سے خطاب کررہے تھے جس کا مقصد اسٹیٹ بینک کی قابل تجدید توانائی فنانسنگ اسکیم کے بارے میں آگاہی پیدا کرنا تھا جسے یونی لیور نے اپنی 30 فیصد فیکٹریوں کو قابل تجدید توانائی میں تبدیل کرنے کے لیے استعمال کیا ہے۔ڈاکٹر باقر نے کہا کہ پاکستان کو ماحولیاتی تبدیلی کے نتیجے میں چیلنج کا سامنا ہے اور اس کی روک تھام کی حکمت عملیاں انتہائی اہمیت کی حامل ہیں۔ اس سلسلے میں انہوں نے اس طرف توجہ دلائی کہ اسٹیٹ بینک نے قابل تجدید توانائی کے لیے فنانسنگ اسکیم جاری کی ہے تاکہ قابل تجدید توانائی کے منصوبوں کو فروغ دیا جاسکے۔ گورنر باقر نے اسکیم کے کلیدی پہلو اجاگر کیے جو کارپوریٹس سے لے کر افراد تک مختلف متعلقہ فریقں کے لیے مفید ہوسکتے ہیں۔ یہ اسکیم وقت گذرنے کے ساتھ ارتقا پذیر ہوئی ہے اور اس کا بھرپور خیرمقدم کیا گیا ہے۔ ڈاکٹر باقر نے شرکا پر زور دیا کہ اس سہولت سے فائدہ اٹھائیں۔ فروری 2021ء تک تقریباً850میگاواٹ پیداوار کے 521منصوبوں کے لیے تقریباً36 ارب روپے کی فنانسنگ فراہم کی گئی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ وسائل کے کارگر اور پائیدار استعمال میں مالی وسائل لگانے کا
عمل ماحولیاتی تبدیلی کو کم کرنے میں مرکزی کردار ادا کرے گا۔ پاکستان 2015سے گلوبل سسٹینے ایبل بینکنگ نیٹ ورک کا رکن ہے اور ماحولیاتی وپائیداری کی فنانس پالیسیوں کو عالمی ماحولیاتی اور سماجی معیارات اور بہترین روایات سے ہم آہنگ کیا جارہا ہے۔فنانسنگ اسکیمیں اپنے ماحولیاتی اثرات اور لاگت میں کمی کے عزائم دونوں لحاظ سے کمپنیوں کوزبردست سماجی اور کاروباری قدر کی پیشکش کرتی ہیں۔ پاکستان میں فنانسنگ اسکیم نے انہیں مالی طور پر قابل عمل رہتے ہوئے اپنے
قابل تجدید توانائی کے مقاصد پر فوری عملدرآمد کرنے کے قابل بنا دیا ہے۔ اسٹیٹ بینک کی قابل تجدید توانائی کی فنانسنگ اسکیم ایک جدت پسند حل پیش کرتی ہے جس کا مقصد پاکستان میں صاف توانائی میں سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کرنا ہے۔ یہ توانائی کے آمیزے کو متنوع بنانے اور ماحولیاتی تبدیلی کے اثر کو کم کرنے کی ملکی کوششوں کا حصہ ہے۔ یہ اسکیم کئی قسم کے اداروں اور افراد کو400ملین روپے تا 6 ارب روپے مالیت کے مختلف قسم کے فنانسنگ آپشن فراہم کرتی ہے۔
ان میں کیپٹو انرجی یونٹس کے ساتھ ساتھ کمرشل منصوبے اور انفرادی صارفین شامل ہیں جو قومی گرڈ سے اضافی پیداوار کا تبادلہ کر سکتے ہیں۔اسٹیٹ بینک نے قابلِ تجدید توانائی کے لیے اپنی فنانسنگ اسکیم 2016ء میں جاری کی تھی، مثبت فیڈ بیک ملنے کے باعث اس اسکیم پر جولائی 2019ء میں نظر ثانی کی گئی تھی۔ اسٹیٹ بینک نے اس اسکیم کا شریعت سے ہم آہنگ ورژن بھی اگست 2019ء میں متعارف کرایا تھا۔ اس اسکیم کا مقصد یہ ہے کہ پاکستان کی بجلی کی بڑھتی ہوئی
طلب کو قابلِ تجدید ذرائع سے پورا کیا جائے اور پائیدار ترقی کے اہداف کے سلسلے میں صاف توانائی کے منصوبوں کو فروغ دیا جائے۔ اس میں بجلی بنانے کے لیے مقامی وسائل مثلاً ہوا، شمسی توانائی اور آبی ذرائع کے استعمال کو فروغ دیا جاتا ہے اور ساتھ ساتھ صارفین کو بھی قابلِ تجدید توانائی کے استعمال کی ترغیب دی جاتی ہے تاکہ نیپرا کے نیٹ میٹرنگ ضوابط کی تعمیل ہو۔



















































