بدھ‬‮ ، 04 فروری‬‮ 2026 

معاشی اشاریوں میں بہتری کے باوجودکتنے فیصد پاکستانی بنیادی ضروریات پوری کرنے کیلئے کھانے میں کمی پر مجبورہوئے؟ سروے میں تہلکہ خیز انکشاف

datetime 30  جنوری‬‮  2021 |

اسلام آباد (این این آئی)معاشی اشاریوں میں بہتری کے باوجود 2 فیصد پاکستانی بنیادی ضروریات پوری کرنے کیلئے کھانے میں کمی پر مجبور ہوگئے۔ گیلپ پاکستان کے سروے میں انکشاف ہوا ہے کہ اخراجات پورے کرنے کیلئے سستی غذائی اشیاء استعمال کرنے والے پاکستانیوں کی شرح 16 فیصد سے کم ہوکر 3 فیصد پر آگئی۔ سروے

کے مطابق رشتہ داروں سے ادھار مانگ کر گھریلو اخراجات پورے کرنے والوں کی شرح 21 فیصد سے 13 فیصد ہے۔سروے میں بتایا گیا کہ اثاثے بیچ کر گھر کے اخراجات پورے کرنے والے پاکستانیوں کی شرح 7 سیکم ہوکر 4 فیصد رہ گئی ہے۔دوسری طرف کہا گیا ہے کہ اوگرا کی جانب سے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے اضافے کی سمری ہم مسترد کرتے ہیں، یہ نہ صرف ایک ناقابل قبول اقدام ہوگا بلکہ اس سے ملک کی معیشت اور عوام کی قوت خرید بھی مزید متاثر ہوگی۔ ان خیالات کا اظہار نائب صدر، پاکستان بزنس فورم چوہدری احمد جواد نے کیا۔ ہم معاشی طور پر اس موڑ پر کھڑے ہیں جہاں عوام اور کاروباری حضرات حکومت سے معاشی ریلیف کی توقع کرتے ہیں۔ پٹرولیم مصنوعات میں اضافہ ایک معمول کا عمل بنا لینا عوام دوست پالیسی کا حصہ کبھی نہیں ہو سکتا۔ عوام پہلے ہی معاشی بدحالی کا شکار ہے، اور کاروباری طبقہ دن رات مصروف عمل ہے کہ عوام کی ضرورت کی اشیاء کسی طرح بھی عوام کی پہنچ میں لائی جاسکیں۔ ہماری صنعت کم منافع پر کام کرکے بیشتر مصنوعات تک عوام کی رسائی ممکن بنا رہی ہے۔ ایسے میں حکومت کی جانب سے پٹرول کی قیمت میں اضافہ مہنگائی کو مزید دعوت دینے کے مترادف ہوگا۔ نائب صدر پی بی ایف کا مزید کہنا تھا کہ حکومت جہاں پہلے ہی مہنگائی کے جن پر

قابو پانے کیلئے کوشش کر رہی ہے، اس دوران یہ فیصلہ تمام تر حکومتی کاوشوں کو بے سود ثابت کرے گا۔ تاہم ہم وزیر اعظم پاکستان عمران خان صاحب سے یہ امید کرتے ہیں اور مطالبہ کرتے ہیں کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کسی قسم کے اضافے کی سمری کو منظور نہ کیا جائے۔ بلکہ معاشی جنگ کے اس موقع پر عوام اور

کاروباری شعبے کیلئے پٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں کم کر کے ریلیف مہیا کیا جائے۔ اگر یہ سمری منظور کی جاتی ہے تو اس سے وزیر اعظم پاکستان کا ایز آف ڈوئنگ بزنس کا ویژن بری طرح متاثر ہوگا۔ بلکہ اس اضافے سے کاروبار کی لاگت میں اضافہ ہوگا، فارم ٹو مارکٹ مال کی منتقلی، ٹرانسپورٹیشن جیسے دیگر مسائل پیدا ہونگے، جس سے عام شہری پسے گا اور کاروباری طبقہ جو ملک کی معیشت کا پہیہ ہے وہ مزید کمزور ہوگا۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



آئل اینڈ سپیس وار


مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…