ہفتہ‬‮ ، 19 ستمبر‬‮ 2026 

سٹیل ملز کی بحالی کیلئے روس، چین کیساتھ کورین کمپنی نے بھی دلچسپی ظاہر کر دی

datetime 6  جنوری‬‮  2021 |

اسلام آباد (این این آئی) پاکستان سٹیل ملز کی بحالی کے لیے روس، چین کے ساتھ ساتھ کورین کمپنی نے بھی دلچسپی ظاہر کر دی، پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کے تحت ملز کو چلایا جائے گا اور پیداواری صلاحیت کو 10 لاکھ سے بڑھا کر 30 لاکھ ٹن کیا جائے گا۔ بدھ کو ساجد طوری کی زیر صدارت قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے

صنعت و پیداوار کا اجلاس ہوا۔ اجلاس میں حکام نے بریفنگ میں بتایا کہ حکومت نے فیصلہ کیا تھا کہ سٹیل ملز کو پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ پر چلایا جائے گا، پاکستان سٹیل ملز کی پیداوار کو ایک ملین سے تین ملین ٹن کی جائے گی۔اجلاس میں بتایا گیا کہ پاکستان اسٹیل ملز اس کمپنی کی ہولڈنگ کمپنی کے طور پر موجود رہے گی۔ روسی, چین اور کورین کمپنیز پاکستان سٹیل ملز میں دلچسپی ظاہر کر رہے۔ پاکستان سٹیل ملز کی نجکاری کے لیے ذیلی کمیٹی قائم کی جائے گی۔اجلاس میں بتایا گیا کہ پاکستان سٹیل ملز کے نان کور اثاثہ جات ذیلی کمپنی کو منتقل کیے جائیں گے۔ پاکستان سٹیل ملز کی 18 ہزار ایکڑ کور اراضی ہے۔ پاکستان سٹیل ملز کے پاس 1268 ایکڑ اراضی نان کور ہے۔ پاکستان سٹیل ملز 1268 ایکڑ اراضی کی ویلیو ایشن کرائی جائے گی۔اجلاس کے مطابق پاکستان سٹیل ملز کی اراضی اور پلانٹ کو فروخت نہیں کیا جائے گا۔ نو ہزار ایکڑ پر مختلف صنعتیں لگائی گئی ہیں۔ کور لینڈ پاکستان سٹیل ملز کے پاس رہے گی۔ امسال جون تک پاکستان سٹیل ملز کی نجکاری مکمل کی جائے گی۔رکن کمیٹی اسامہ قادری نے کہاکہ حکومت روزگار فراہم کرنے کی بجائے لوگوں کو بے روزگار کرر رہی۔ یہ حکومت پاکستان سٹیل ملز کو چلانے کا وعدہ کر کے آئی تھی۔ موجودہ حکومت اثاثے بیچ کر پیسے کما رہی ہے۔آغا رفیع اللہ نے کہا کہ کیا پاکستان سٹیل ملز کی نجکاری کی منظوری سی سی آئی سے لی گئی؟۔ سٹیل ملز کے ملازمین کو گولڈن ہینڈ شیک نہیں دیا۔ وزیر اعظم نے اسٹیل ملز کے دروازے پر کھڑے ہوکر اعلان کیا کہ مل کو چلایا جائے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…