جمعہ‬‮ ، 04 اپریل‬‮ 2025 

عالمی بینک نے پاکستان کی شرح نمو کے تخمینے میں کمی کردی

datetime 9  جنوری‬‮  2020
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

اسلام آباد (این این آئی)عالمی بینک نے سخت مانیٹری پالیسی، مالی استحکام کے ساتھ بیرونی عناصر کے تسلسل کے باعث موجودہ مالی سال اور آئندہ 2 سالوں کے لیے ملک کی شرح نمو کے تخمینے میں معمولی سی کمی کردی۔

میڈیارپورٹ کے مطابق عالمی اقتصادی امکانات2020‘ کے عنوان سے جاری اپنی تازہ رپورٹ میں بینک نے پیش گوئی کی کہ پاکستان کی موجودہ سالانہ شرح نمو جون 2019 کے اندازے سے 0.3 فیصد کم یعنی 2.4 فیصد ہے جو آئندہ مالی سال میں 3 فیصد اور مالی سال 2020 میں 3.9 فیصد تک پہنچ جائیگی۔اس کے ساتھ موجودہ مالی سال کے لیے عالمی شرح نمو میں 0.2 فیصد کی کمی جبکہ جنوبی ایشیائی خطے کی شرح نمو 1.5 فیصد کم ہونے کی پیش گوئی کی گئی۔ایک جانب جہاں بنگلہ دیش میں ترقی کی شرح لگائے گئے اندازوں سے بلند یعنی 7 فیصد رہنے کا اندازہ لگایا گیا ہے پاکستان کی شرح نمو سال 2020 میں 3 فیصد کی کمزور سطح پر رہنے کا امکان ہے کیوں کہ معاشی استحکام کی کوششیں سرگرمیوں پر اثر انداز ہوتی ہیں۔دوسری جانب بھارت میں معاشی سیکٹر کو درپیش مسائل کے باعث مالی سال 20/2019 میں شرح نمو 5 فیصد تک کم ہونے کا امکان ہے۔خطے کے معاشی منظر نامے کو لاحق سب سے بڑا خطرہ بڑی معیشتوں میں توقع سے زائد تیزی سے سست روی، علاقائی جیوپولیٹکل تناؤ میں دوبارہ اضافہ اور مالیاتی اور کارپوریٹ سیکٹرز میں خراب بیلنس شیٹ کو درست کرنے کے لیے اصلاحات نہ ہونا شامل ہیں۔عالمی بینک کے مطابق جنوبی ایشائی شرح نمو 2019 میں 4.9 فیصد تک کم ہونے کا تخمینہ لگایا گیا تھا۔

خطے کی شرح نمو میں کمی کی وجہ بھارت اور پاکستان کی معیشت ہے، بھارت میں معاشی سیکٹر میں کمزور اعتماد، لیکویڈیٹی مسائل اور پاکستان میں سخت مانیٹری کے باعث فکس سرمایہ کاری میں تیزی سے سست روی اور نجی کھپت میں واضح نرمی آئی ہے۔عالمی تجارت اور صنعتی سرگرمیوں میں سست روی کے باعث خطے میں درآمدات اور برآمدات مجموعی طور پر اعتدال میں رہی۔عالمی بینک کا کہنا تھا کہ مالی سال 19-2018 میں ملک کی شرح نمو 3.3 فیصد تک کم ہونے کا اندازہ لگایا گیا تھا جو مقامی طلب میں وسیع کمزوری کو ظاہر کرتا ہے۔علاوہ عالمی بینک کے مطابق سال 2020 میں خطے کی شرح نمو 5.5 فیصد تک بلند ہونے کا امکان ہے جس کی وجہ مقامی طلب میں بہتری، بھارت اور سری لنکا میں اپنائی گئی پالیسیوں کے بدولت معاشی سرگرمیوں کے فوائد اور افغانستان، بنگلہ دیش اور پاکستان میں انفرا اسٹرکچر سپورٹ سے بہتر ہوتا تجارتی اعتماد۔

موضوعات:



کالم



چانس


آپ مورگن فری مین کی کہانی بھی سنیے‘ یہ ہالی ووڈ…

جنرل عاصم منیر کی ہارڈ سٹیٹ

میں جوں ہی سڑک کی دوسری سائیڈ پر پہنچا‘ مجھے…

فنگر پرنٹس کی کہانی۔۔ محسن نقوی کے لیے

میرے والد انتقال سے قبل اپنے گائوں میں 17 کنال…

نارمل معاشرے کا متلاشی پاکستان

’’اوئے پنڈی وال‘ کدھر جل سیں‘‘ میں نے گھبرا…

آپ کی امداد کے مستحق دو مزید ادارے

یہ2006ء کی انگلینڈ کی ایک سرد شام تھی‘پارک میںایک…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے (دوسرا حصہ)

بلوچستان کے موجودہ حالات سمجھنے کے لیے ہمیں 1971ء…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے؟ (پہلا حصہ)

قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں…

اچھی زندگی

’’چلیں آپ بیڈ پر لیٹ جائیں‘ انجیکشن کا وقت ہو…

سنبھلنے کے علاوہ

’’میں خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا تھا اور وہ مجھے…

ہم سیاحت کیسے بڑھا سکتے ہیں؟

میرے پاس چند دن قبل ازبکستان کے سفیر اپنے سٹاف…

تیسری عالمی جنگ تیار(دوسرا حصہ)

ولادی میر زیلنسکی کی بدتمیزی کی دوسری وجہ اس…