منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

ترقیاتی منصوبوں کیلئے فنڈز کے اجراءمیں تیزی

datetime 4  ‬‮نومبر‬‮  2019 |

اسلام آباد(آن لائن)پلاننگ کمیشن نے ترقیاتی منصوبوں کے لیے فنڈز کی فراہمی کے عمل کو تیز کردیا ہے اور رواں مالی سال کی پہلے 4 ماہ کے عرصے میں 2 کھرب 57 ارب 17 کروڑ روپے جاری کیے جو گزشتہ برس اسی عرصے کے دوران جاری کیے ایک کھرب 60 کروڑ روپے کی رقم سے 144 فیصد زائد ہیں۔ رپورٹ کے مطابق پلاننگ کمیشن کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق نومبر میں ان کی

جانب سے یکم نومبر تک 2 کھرب 57 ارب 17 کروڑ روپے کے فنڈز جاری کیے گئے جو پورے مالی سال میں ترقیاتی منصوبوں کے مختص 7 کھرب 10 کروڑ کا 37 فیصد ہے۔خیال رہے کہ گزشتہ برس کے اسی عرصے کے دوران پلاننگ کمیشن نے پورے مالی سال میں ترقیاتی منصوبوں کے لیے مختص 6 کھرب 75 ارب روپے کا 15.6 فیصد یعنی ایک کھرب 5 ارب 46 کروڑ روپے جاری کیے تھے۔فنڈز کے اجرا میں تیزی عالمی مالیاتی فنڈ کی جانب سے وفاقی اور صوبائی حکومت کو ترقیاتی فنڈز کے زیادہ سے زیادہ استعمال کی تجویز پر عمل میں آئی تا کہ رواں مالی سال کے لیے 2.4 فیصد کی شرح نمو کا ہدف پایا جاسکے۔ان فنڈز کے انتظامی فارمولے کے تحت وزارتوں، محکموں اور دیگر اداروں کو پہلی اور سہ ماہی میں مختص شدہ ترقیاتی فنڈز کا 20، 20 فیصد حصہ خرچ کرنا ہے جبکہ تیسری اور چوتھی سہ ماہی میں خرچ کیے جانے والے ترقیاتی فنڈز کی شرح 30،30 فیصد رہے گی۔تاہم تنخواہوں ، پینشنز کی صورت میں فنڈز کا اجراہ ہر سہ ماہی میں 25 فیصد کے حساب سے بھی کیا جاسکتا ہے۔خیال رہے کہ حالیہ تاریخ میں یہ پہلا موقع ہے کہ پبلک سیکٹر ڈیولپمنٹ پروگرام کے تحت پہلے 4 ماہ میں فنڈز کا اجرا مقررہ ہدف یعنی 40 فیص د کے قریب (تقریباً) 37 فیصد تک پہنچا۔تاہم پہلے 4 ماہ میں جاری کیے گئے فنڈز کا 60 فیصد حصہ 4 عناصر کے لیے مختص رہا جس میں نیشنل ہائی وے اتھارٹی کے لیے 80

ارب روپے دیے گئے جو زیادہ تر پاک چین اقتصادی راہداری (سی پیک) پر خرچ ہوئے، یہ رقم اس مقصد کے لیے مالی بجٹ میں مختص ایک کھرب 55 ارب روپے کا 52 فیصد ہے۔فنڈز کا دوسرا بڑا حصہ 26 ارب 78 کروڑ روپے سیکیورٹی کی بہتری پر خرچ کیے گئے جس کے لیے مختص شدہ کل رقم 32 ارب روپے تھی۔یعنی رواں مالی سال کے بجٹ میں سیکیورٹی بہتر بنانے کے لیے مختص شدہ بجٹ کا 82 فیصد حصہ جاری

کیا جاچکا ہے۔علاوہ ازیں 12 ارب 80 کروڑ روپے کا تیسرا بڑا حصہ خیبرپختونخوا میں ضم ہونے والے قبائلی اضلاع کی ترقی کے لیے جاری کیا گیا جس کے لیے رواں مالی سال مجموعی طور پر 72 ارب روپے مختص کیے گئے تھے۔دوسری جانب پلاننگ کمیشن نے بتایا کہ اسپیشل ڈیولپمنٹ پروگرام کے لیے کوئی فنڈز دستیاب نہیں جس کے لیے رواں مالی سال میں 32 ارب 50 کروڑ روپے مختص کیے گئے تھے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…