جمعرات‬‮ ، 03 اپریل‬‮ 2025 

آئی ایم ایف کا پاکستان سے التوا کا شکار ’’ساختی اصلاحات‘‘ کرنے کا مطالبہ

datetime 21  اکتوبر‬‮  2019
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

واشنگٹن( آن لائن ) عالمی مالیاتی فنڈ ( آئی ایم ایف) نے پاکستان سے مطالبہ کیا ہے کہ معیشت کو بہتر بنانے کے لیے قانونی طریقہ کار کے ذریعے اداروں کو مضبوط بنا کر اور ان میں اسٹرکچرل (ساختی) اصلاحات لا کر اپنے دیرینہ مسائل حل کیے جائیں۔ رپورٹ کے مطابق آئی ایم ایف کے ریجنل ڈائریکٹر برائے مشرقی اور وسطی ایشیا جہاد ازعور نے ایک نیوز کانفرنس میں سوال کے جواب میں کہا کہ بہتر مالی اور اقتصادی

صورتحال کے لیے حکومت کو صوبائی اور وفاقی سطح پر تعاون بڑھانے کی بھی ہدایت کی گئی ہے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان کے لیے ایک اہم ترین راستہ ساختی اصلاحات لانا ہے جس کی بدولت پاکستانی معیشت کے کمزوری سے متعلق دیرینہ مسائل حل کر کے اسے مسابقتی سطح پر لایا جاسکتا ہے۔آئی ایم ایف عہدیدار کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان کو ماضی کے مسائل حل کرنا چاہئیں، مثلا? مرکزی بینک، توانائی کے شعبے اور دیگر اداروں کے لیے قانونی طریقہ کار فراہم کر کے اداروں کو مضبوط کرنا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ آئی ایم ایف پروگرام کی حمایت سے پاکستان میں اصلاحاتی ایجنڈا موجود ہے، جو ملک میں میکرواکنامک استحکام کو فروغ دینے، گزشتہ کچھ برسوں سے ملک کو جس عدم توازن کا سامنا ہے اسے دور کرنے، معیشت کو مزید مسابقتی بنانے اور اس کی ساکھ کو بہتر بنانے کا صحیح نسخہ ہے۔جہاد ازعور نے کہا کہا آ ئی ایم ایف مشن اپنے پہلے جائزے کے لیے رواں ماہ کے اختتام پر پاکستان جائے گا جبکہ اب تک جو پیش رفت حاصل ہوئی ہے وہ درست سمت میں ہے۔تاہم ابھی سے مکمل جائزہ فراہم کرنا قبل از وقت ہوگا، ہمیں مشن کے وہاں جانے کا اور حقیقی بنیادوں پر محنت سے کام کرنے کا انتظار کرنے کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ اب کچھ ماہ گزر گئے ہیں، پروگرام کی شروعات سے اب تک تقریباً 3 ماہ ہوئے ہیں اور بظاہر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ چیزیں درست سمت میں گامزن ہیں۔آئی ایم ایف ڈائریکٹر کا

مزید کہنا تھا کہ اس پروگرام کے تحت اصلاحات کے 2 راستے ہیں جن میں سے ایک بڑے پیمانے پر استحکام ہے اور اس کے لیے مرکزی بینک نے مالیاتی اور نگرانی کی سطح پر جبکہ وزارت خزانہ نے مالیاتی سطح پر متعدد اقدامات کیے۔دوسرا طریقہ جو زیادہ اہم ہے وہ یہ کہ معیشت کو مسابقتی بنانے کے لیے ساختی اصلاحات کی جائیں۔ان کا مزید کہنا تھا کہ اصلاحاتی ایجنڈا پاکستان کے لیے

اس لیے بھی نہایت اہم ہے کیوں کہ اس سے ترقی کی رفتار تیز ہوگی اور نجی شعبے کو کام کرنے کے لیے صحیح فریم ورک میسر آئے گا۔دوسری جانب مشیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ اور گورنر اسٹیٹ بینک کی سربراہی میں پاکستانی وفد نے سرمایہ کاروں اور عالمی مالیاتی اداروں کے نمائندوں سے ملاقات کی اور انہیں آگاہ کیا کہ پاکستان کے اصلاحاتی ایجنڈے کے ثمرات سامنے آنے لگے ہیں۔

موضوعات:



کالم



چانس


آپ مورگن فری مین کی کہانی بھی سنیے‘ یہ ہالی ووڈ…

جنرل عاصم منیر کی ہارڈ سٹیٹ

میں جوں ہی سڑک کی دوسری سائیڈ پر پہنچا‘ مجھے…

فنگر پرنٹس کی کہانی۔۔ محسن نقوی کے لیے

میرے والد انتقال سے قبل اپنے گائوں میں 17 کنال…

نارمل معاشرے کا متلاشی پاکستان

’’اوئے پنڈی وال‘ کدھر جل سیں‘‘ میں نے گھبرا…

آپ کی امداد کے مستحق دو مزید ادارے

یہ2006ء کی انگلینڈ کی ایک سرد شام تھی‘پارک میںایک…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے (دوسرا حصہ)

بلوچستان کے موجودہ حالات سمجھنے کے لیے ہمیں 1971ء…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے؟ (پہلا حصہ)

قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں…

اچھی زندگی

’’چلیں آپ بیڈ پر لیٹ جائیں‘ انجیکشن کا وقت ہو…

سنبھلنے کے علاوہ

’’میں خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا تھا اور وہ مجھے…

ہم سیاحت کیسے بڑھا سکتے ہیں؟

میرے پاس چند دن قبل ازبکستان کے سفیر اپنے سٹاف…

تیسری عالمی جنگ تیار(دوسرا حصہ)

ولادی میر زیلنسکی کی بدتمیزی کی دوسری وجہ اس…