منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

عوام کو غریب کر کے معیشت مستحکم نہیں کی جا سکتی، پاکستان اکانومی واچ بہت جلد ہی پاکستان حکومت کو کس کا دروازہکھٹکھٹانا پڑ سکتا ہے، خبردار کر دیا گیا

datetime 11  اکتوبر‬‮  2019 |

کراچی (این این آئی ) پاکستان اکانومی واچ کے صدر ڈاکٹر مرتضیٰ مغل نے کہا ہے کہ عوام کی آمدنی کم کر کے معیشت کو مستحکم کرنے کی کوشش کرنے والے ماہرین خود فریبی میں مبتلا ہیں۔ بجلی گیس اور پٹرول کی قیمتوں میں اضافہ اور ٹیکس بڑھانے سمیت مختلف اقدامات سے عوام سے انکی خون پسینے کی کمائی چھین کر کنگھال کیا جا رہا ہے جو ایک ناکام پالیسی ہے۔ڈاکٹر مرتضیٰ مغل نے یہاں جاری ہونے والے

ایک بیان میں کہا کہ مہنگائی کی وجہ سے بنیادی ضروریات پوری نہیں ہو رہیں تو عوام دیگر اشیاء کی خریداری کیسے کرے۔ عوام اشیائے ضروریہ کے علاوہ کسی چیز کی خریداری نہیں کررہے ہیں اس لئے فیکٹریوں میں تیار ہونے والا سامان فروخت نہیں ہورہا جس سے کارخانے پیداوار کم یا بند کر کے ملازمین کو فارغ کر رہے ہیں جس سے ملک میں بے روزگاری اور بے چینی بڑھ رہی ہے۔انھوں نے کہا کہ پاکستان کی کاروباری برادری مقامی منڈی پر انحصار کرتی ہے کیونکہ تین سو ارب ڈالر کی معیشت کی برامدات صرف انیس ارب ڈالر ہیں یعنی صنعتی زرعی اور خدمات کے شعبوں کو مقامی منڈی نے ہی قائم رکھا ہوا ہے جسے آئی ایم ایف کی ہدایت پر کمزور کیا جا رہا ہے۔ڈاکٹر مغل نے کہا کہ موجودہ شرح سود سے صرف حکومت اورکمرشل بینکوں کو فائدہ ہو رہا ہے جبکہ دیگر شعبوں کی کمر ٹوٹ گئی ہے۔ اس شرح سود میں پاکستان تو کیا امریکہ یا چین کے بزنس مین بھی کاروبار نہیں چلا سکتے ہیں۔شرح سود کو کم کرنا بہت ضروری ہو گیا ہے۔موجودہ پالیسیوں کی وجہ سے حکومت کو جلد ہی دوبارہ آئی ایم ایف کا دروازہ کھٹکھٹانا پڑ سکتا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…