بدھ‬‮ ، 14 جنوری‬‮ 2026 

عوام کو غریب کر کے معیشت مستحکم نہیں کی جا سکتی، پاکستان اکانومی واچ بہت جلد ہی پاکستان حکومت کو کس کا دروازہکھٹکھٹانا پڑ سکتا ہے، خبردار کر دیا گیا

datetime 11  اکتوبر‬‮  2019 |

کراچی (این این آئی ) پاکستان اکانومی واچ کے صدر ڈاکٹر مرتضیٰ مغل نے کہا ہے کہ عوام کی آمدنی کم کر کے معیشت کو مستحکم کرنے کی کوشش کرنے والے ماہرین خود فریبی میں مبتلا ہیں۔ بجلی گیس اور پٹرول کی قیمتوں میں اضافہ اور ٹیکس بڑھانے سمیت مختلف اقدامات سے عوام سے انکی خون پسینے کی کمائی چھین کر کنگھال کیا جا رہا ہے جو ایک ناکام پالیسی ہے۔ڈاکٹر مرتضیٰ مغل نے یہاں جاری ہونے والے

ایک بیان میں کہا کہ مہنگائی کی وجہ سے بنیادی ضروریات پوری نہیں ہو رہیں تو عوام دیگر اشیاء کی خریداری کیسے کرے۔ عوام اشیائے ضروریہ کے علاوہ کسی چیز کی خریداری نہیں کررہے ہیں اس لئے فیکٹریوں میں تیار ہونے والا سامان فروخت نہیں ہورہا جس سے کارخانے پیداوار کم یا بند کر کے ملازمین کو فارغ کر رہے ہیں جس سے ملک میں بے روزگاری اور بے چینی بڑھ رہی ہے۔انھوں نے کہا کہ پاکستان کی کاروباری برادری مقامی منڈی پر انحصار کرتی ہے کیونکہ تین سو ارب ڈالر کی معیشت کی برامدات صرف انیس ارب ڈالر ہیں یعنی صنعتی زرعی اور خدمات کے شعبوں کو مقامی منڈی نے ہی قائم رکھا ہوا ہے جسے آئی ایم ایف کی ہدایت پر کمزور کیا جا رہا ہے۔ڈاکٹر مغل نے کہا کہ موجودہ شرح سود سے صرف حکومت اورکمرشل بینکوں کو فائدہ ہو رہا ہے جبکہ دیگر شعبوں کی کمر ٹوٹ گئی ہے۔ اس شرح سود میں پاکستان تو کیا امریکہ یا چین کے بزنس مین بھی کاروبار نہیں چلا سکتے ہیں۔شرح سود کو کم کرنا بہت ضروری ہو گیا ہے۔موجودہ پالیسیوں کی وجہ سے حکومت کو جلد ہی دوبارہ آئی ایم ایف کا دروازہ کھٹکھٹانا پڑ سکتا ہے۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سہیل آفریدی کا آخری جلسہ


وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…

جو نہیں آتا اس کی قدر

’’آپ فائز کو نہیں لے کر آئے‘ میں نے کہا تھا آپ…

ویل ڈن شہباز شریف

بارہ دسمبر جمعہ کے دن ترکمانستان کے دارالحکومت…