اتوار‬‮ ، 28 جون‬‮ 2026 

مہنگائی سے پریشان عوام پر گیس بم گرانے کے انتظامات مکمل کر لئے گئے ہیں : پاکستان اکانومی واچ

datetime 15  اپریل‬‮  2019 |

کراچی(این این آئی) پاکستان اکانومی واچ کے صدر ڈاکٹر مرتضیٰ مغل نے کہا ہے گیس کمپنیوں نے اپنا منافع بڑھانے کے لئے عوام پر کاری ضرب لگانے کی تیاری مکمل کر لی ہے۔گزشتہ ایک سال کے دوران گیس کی قیمتوں میں 143 فیصدتک اضافہ گیس کمپنیوں کو مطمئن کرنے کے لئے ناکافی رہا ہے اس لئے اب گیس کی قیمت میں مزید 145 فیصد اضافہ کا مطالبہ کر دیا گیا ہے۔اگر حکومت نے گیس کے نرخ

145 فیصد کے بجائے چالیس سے پچاس فیصد تک بڑھانے کی اجازت بھی دی تو گیس کمپنیوں کا منافع بہت بڑھ جائے گا مگر عوام برباد کاروبار دیوالیہ جبکہ لاکھوں افراد بے روزگار ہو جائیں گے۔اگلے ایک سال میں گیس کے بل مکانوں کے کرائے سے بڑھ جائیں گے مگر حکومت بدستور انجان بنی رہے گی۔ڈاکٹر مرتضیٰ مغل نے یہاں جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا کہ گیس کی قیمت میں اضافہ سے قبل اوگرا کی جانب سے عوامی رائے لینے کا سلسلہ ایک ڈھونگ ہے کیونکہ تمام سفارشات کوہمیشہ ردی کی ٹوکری میں ڈال دیا جاتا ہے۔انھوں نے کہا کہ گیس کمپنیوں کی جانب سے فرضی نقصانات کی آڑ میں عوام کی کھال اتارنے کا سلسلہ جاری ہے۔اگر گیس کمپنیاں نقصان میں ہیں تو اسکے ڈائریکٹر اپنے حصص فروخت کیوں نہیں کرتے اور یہ کمپنیاں اپنے شئیر ہولڈرز کو منافع کہاں سے ادا کرتی ہیں۔ گیس ایک قومی اثاثہ ہے جسے بتدریج گیس تقسیم کرنے والی کمپنیوں کے حوالے کر کے تباہ کیا جا رہا ہے۔ ان اداروں کا اختیار گیس کی تقسیم و ترسیل تک محدود کیا جائے۔ایل این جی پراجیکٹ کی کامیابی میں سب سے بڑی رکاوٹ بھی یہی کمپنیاں بتائی جاتی ہیں جس سے ملک کو اربوں روپے کا نقصان پہنچ رہا ہے۔انھوں نے کہا کہ گیس کمپنیوں نے اوگرا کو غیر فعال بنا ڈالا ہے جبکہ حکومت بھی اس ادارے کو نظر انداز کر کے من مانے فیصلے کر رہی ہے۔ اگر اوگرا میں گیس کمپنیوں کے افسران کی تعیناتی اور دیگر اقدامات سے اسے عضو معطل بنا کر رکھنا ہی ہے تو اس پر بھاری اخراجات کرنے کے بجائے بند کیوں نہیں کیا جاتا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



دنیا کا سب سے بڑا غار


چانگ چاچے کے مضافات میں ایک اور حیران کن سیاحتی…

اواتار مائونٹین

اواتار فلم 2009 ء میں آئی‘ پوری دنیا میں دیکھی…

فورنگ میں ایک رات

ہماری لینڈ لیڈی کے والدین غریب تھے‘ وہ ٹائون…

محمد بوٹا انجم

محمد بوٹا میاں چنوں کے گائوں چک 15 میں پیدا ہوا‘…

فلم میں بھی ہارنے سے انکار

یہ تبلیسی شہر تھا‘ اکتوبر کی 8 تاریخ تھی اور سن…

Pale Blue Dot

کارل ایڈورڈ سیگن (Carl Edward Sagan) خلانورد اور پلانٹری…

نصیب کی مکھی

ٹومی فلیٹ ووڈ (Tommy Fleetwood) دنیا کا مشہور گالفر ہے‘…

8 بجے تک

میرا جم میرے گھر سے پانچ منٹ کی دوری پر ہے‘ میں…

ریو سیکریٹو

دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…