جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

سال2019 میں پاکستان کی ترقی کی شرح مالدیپ اور نیپال سے بھی کم رہے گی، اقوام متحدہ نے تازہ ترین رپورٹ جاری کر دی

datetime 5  اپریل‬‮  2019 |

نیویارک(این این آئی)اقوام متحدہ کے اقتصادی اور سماجی کمیشن برائے ایشیا اور پیسیفک(ای ایس سی اے پی) نے پیش گوئی کی ہے کہ پاکستان کی جی ڈی پی 2019 میں خطے میں سب سے کم رہے گی۔میڈیارپورٹس کے مطابق ای ایس سی اے پی کی جانب سے ترقی سے آگے کے عزائم کے عنوان سے ایشیا اینڈ دی پیسیفک 2019 کے سالانہ اقتصادی اور سماجی سروے میں پیش گوئی کی گئی کہ بنگلہ دیش کی 7.3 فیصد

بھارت کی 7.5 فیصد، مالدیپ اور نیپال کی 6.5 فیصد کے مقابلے میں 2019 میں پاکستان کی جی ڈی پی (مجموعی ملکی پیداوار) 4.2 فیصد رہی گی جبکہ 2020 میں یہ 4 فیصد تک ہوسکتی ہے۔اس سروے میں یہ انکشاف کیا گیا کہ خطے میں مجموعی طور پر اقتصادی صورتحال مستحکم ہے اور 2019 اور 2020 میں ترقی کی شرح 5 سے 5.1 فیصد تک متوقع ہے۔تاہم برآمدی شعبے کو یورپ اور ممکنہ طور پر امریکا میں کم طلب کی وجہ سے مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے اور امریکا اور چین کی جاری تجارتی جنگ میں بے یقینی جاری رہے گی۔رپورٹ میں مزید بتایا گیا کہ پاکستان کی معیشت بڑے مالی اور کرنٹ اکاؤنٹ خسارے اور کرنسی پر بڑھتے دباؤ کے باعث ادائیگیوں کی مشکلات کے توازن کا سامنا کر رہی ہے۔ایشیا پیسفک خطے میں افراط زر (مہنگائی) کے حوالے سے پیش گوئی کرتے ہوئے لکھا گیا کہ 2020 میں 3.8 فیصد تک کمی سے قبل 2019 میں اس میں اعتدال کے ساتھ 4.2 فیصد تک اضافہ ہوگا۔تاہم تجارتی کشیدگی اور بڑھتی بے یقینی، کرنسی کی قدر میں کمی اور غیر معمولی موسم کے تناظر میں ممکنہ زیادہ ٹیرف صارفین اور خوراک کی قیمتوں میں اضافہ کرسکتا ہے۔سروے کے مطابق خطے کے وسط سے طویل مدتی امکانات ساختی تبدیلی اور وسیع بنیاد پر پیداواری ترقی پر منحصر ہیں۔اس رپورٹ میں ان ممالک کو خبردار کیا کہ جو زراعت پر مبنی معیشت کو کسی ایک کے پاس منتقل کر رہے ہیں، جس سے مینوفکچرنگ شعبے کو بائی پاس کرتے ہوئے سروسز کا شعبہ اصل کردار ادا کرتا ہے۔اقوام متحدہ کے کمیشن کی جانب سے 2019 کے سروے میں یہ نشاندہی بھی کی گئی کہ 2030 تک پائیدار ترقی کے مقاصد کے حصول کے لیے ایشیا پیسفک ترقی پذیر ممالک کے لیے سالانہ 15 کھرب ڈالر کی اضافی سرمایہ کاری کی ضرورت ہوگی، جو 2018 میں ان ممالک کی مشترکہ جی ڈی پی کے 5 فیصد کے برابر ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…