لاہور(این این آئی)ایران پا ک فیڈریش آف کلچراینڈ ٹریڈ کے صدر خواجہ حبیب الرحمان نے کہا ہے کہ پاکستان کو معاشی استحکام کی منزل تک لے جانے کیلئے زراعت پر توجہ دینا ہو گی، حکومت کاشتکاروں کے مسائل حل کرے،انہیں مراعات و سہولیات دے تاکہ زراعت ہماری معیشت کا مضبوط سہارا بنے، کپاس کی امدادی قیمت کے حوالے سے کاشتکار کو آسودگی ملنی چا ہیے۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے ساہیوال چیمبر کے عہدیداروں کے وفد سے ملاقات میں گفتگو کرتے ہوئے کیا۔انہوں نے کہا کہ یہ با ت خوش آ ئند ہے کہ گزشتہ برسوں کے بر عکس رواں مالی سال کے پہلے 8 ماہ میں حکومتی اقدامات کے باعث ٹیکس وصولی کی شرح 7سے 8 فیصد بڑھی ہے لیکن تشویشناک امر یہ ہے کہ اس وقت ٹیکس نیٹ کے دائرے میں آنے والے افراد میں سے محض ایک فیصد طبقہ ٹیکس ادا کر رہا ہے جس کے باعث ایف بی آر کو تاحال170 ارب روپے کے شارٹ فال کا سامنا ہے، ٹیکس اصلاحات وقت کی سب سے اہم ضرورت ہے، اسے سو فیصد بہتربنا کر ہم صحیح معنوں میں خوشحالی کے راستے پر گامزن ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایک ہی روز میں پٹرول بم کے ساتھ بجلی کی قیمتوں میں اضافہ عوام پر ظلم ہے، آج حکومت معیشت کی مضبوطی کے دعوے اور سعودی عرب و متحدہ امارات سے تیل موخر ادائیگیوں پر حاصل کر رہی ہے اورحکومت سبسڈی دینے کی پوزیشن میں تھی لیکن محض ریونیو بڑھانے کے لیے نرخوں میں اضافہ کیا گیا جو عوام پر ظلم ہے ۔ خواجہ حبیب الرحمان نے کہا کہ سعود یہ اور چین کی جانب سے یکج ملنے کے بعدآئی ایم ایف سے12 ارب ڈالر قرضہ لینے سے مہنگائی میں مزید اضافہ ہو گا ،حکومت آئی ایم ایف قرض کے حصول سے گریز کرے اور اگر جانا ناگزیر ہو تو اس کی غریب مکاؤ شرائط تسلیم نہ کی جائیں۔



















































