جمعرات‬‮ ، 25 جون‬‮ 2026 

آئی ایم ایف اور حکومت کے مابین مشاورت کا آغاز

datetime 28  ستمبر‬‮  2018 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ (آئی ایم ایف) کے وفد نے حکومتِ پاکستان کے ساتھ اقتصادی اعداد و شمار اور مستقبل کی معاشی پالیسییوں کے حوالے سے گفتو شنید کا آغاز کردیا جس کے بعد متوقع طور پر ادائیگیوں کے توازن برقرار رکھنے کے لیے مدد حاصل ہوسکے گی۔ رپورٹ کے مطابق ذرائع کا کہنا تھا کہ آئی ایم ایف کے سینیئر ماہرِ معاشیات ہیرلڈ فنگر کی سربراہی میں

وفد نے وزیر خزانہ اسد عمر اور سیکریٹری خزانہ عارف احمد خان کی سربراہی میں ٹیم س علیحدہ علیحدہ ملاقاتیں کیں۔ مذکورہ وفد 4 اکتوبر تک پاکستان کے دورے پر ہے، تاہم اس حوالے سے آئی ایم نے باضابطہ طور پر کوئی بیان جاری نہیں کیا نہ ہی وزیر خزانہ اس بارے میں گفتگو کے لیے دستیاب ہوسکے۔ ’مہنگی کاروں،موبائل فونز کی درآمد پر پابندی آئی ایم ایف کے پاس جانے سے بچاسکتی ہے‘ تاہم ذرائع کا کہنا ہے کہ دونوں فریقین میکرواکنامک اشاروں، خاص کر توانائی کے شعبے، پاک چین اقتصادی راہداری (سی پیک) کی تفصیلات اور پاکستان تحریک انصاف(پی ٹی آئی) حکومت کے بنیادی اصلاحات کے منصوبے سمیت خسارے میں چلنے والے سرکاری اداروں کی نجکاری کے حوالے سے مشاورتی اجلاس میں شرکت کریں گے۔ خیال رہے کہ حکومت نے رواں مالی سال کے لیے 8 سے 9 ارب ڈالر کی ضرورت کا تخمینہ ظاہر کیا ہے لیکن ابھی تک حتمی طور پر نہیں کہا جاسکتا کہ چین اور سعودی عرب سے کس قدر مدد حاصل ہوسکے گی۔ اس حوالے سے ایک سینئر عہدیدار کا کہنا تھا کہ آپ اسے پیشگی روابط سمجھ سکتے ہیں لیکن ابھی تک قیادت کی جانب سے آئی ایم ایف سے مدد حاصل کرنے کے لیے فیصلہ نہیں کیا گیا۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ گفتگو کے دوران بنیادی نکتہ حکومت کا سرکاری اداروں کی نجکاری ہوگا کیوں کہ سابق حکومت خسارے میں چلنے والے اداروں کے سلسلے میں قابلِ ذکر اقدامات نہیں کرسکی۔

واضح رہے کہ شدید مالی بحران کے شکار سرکاری اداروں میں پاکستان سٹیل ملز، پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز، گیس کے 2 پیداواری ادارے او جی ڈی سی ایل اور پی پی ایل جبکہ توانائی کا شعبہ شامل ہے جو نجکاری فہرست کا حصہ ہیں۔ ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف وفد، سی پیک کے تحت منصوبوں کی تفصیلات بالخصوص توانائی کے مکمل کیے جانے والے منصوبوں اور زیر تعمیر منصوبوں

اور انکی تکمیل کے مرحلوں کے بارے میں جاننا چاہتا تھا۔ اس کے علاوہ انہوں نے حکومت، خاص کر توانائی اور خزانے کے شعبہ جات سے صارفین سے رقوم کی مکمل وصولی کے حوالے سے پیش کیے گئے اقدامات کی تفصیلات بھی طلب کیں۔ جس کے بارے میں دونوں محکموں کو تازہ ترین اعداد و شمار سے آگاہ کرنا ہوگا، اس سلسلے میں حکومت کی جانب سے سیکریٹری خزانہ

، گورنر اسٹیٹ بینک، فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے چیئرمین، نجکاری، توانائی اور پیٹرولیم کے سیکریٹریز پر مشتمل ٹیم تشکیل دے دی گئی ہے. دوسری جانب انڈونیشیا کے جزیرے بالی میں 8 سے 14 اکتوبر تک متوقع آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کے سالانہ اجلاس میں وزیر خزانہ کی ان مالیاتی اداروں کی قیادت سے ملاقات کا امکان ہے جس میں مستقبل کے اقدامات کے حوالے سے فیصلہ کیا جائے گا۔



کالم



اواتار مائونٹین


اواتار فلم 2009 ء میں آئی‘ پوری دنیا میں دیکھی…

فورنگ میں ایک رات

ہماری لینڈ لیڈی کے والدین غریب تھے‘ وہ ٹائون…

محمد بوٹا انجم

محمد بوٹا میاں چنوں کے گائوں چک 15 میں پیدا ہوا‘…

فلم میں بھی ہارنے سے انکار

یہ تبلیسی شہر تھا‘ اکتوبر کی 8 تاریخ تھی اور سن…

Pale Blue Dot

کارل ایڈورڈ سیگن (Carl Edward Sagan) خلانورد اور پلانٹری…

نصیب کی مکھی

ٹومی فلیٹ ووڈ (Tommy Fleetwood) دنیا کا مشہور گالفر ہے‘…

8 بجے تک

میرا جم میرے گھر سے پانچ منٹ کی دوری پر ہے‘ میں…

ریو سیکریٹو

دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…