ہفتہ‬‮ ، 26 ستمبر‬‮ 2026 

پانی کی قلت: ارسا کا دو بڑے ڈیموں کی تعمیر کا مطالبہ

datetime 27  ستمبر‬‮  2018 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) انڈس ریور سسٹم اتھارٹی (ارسا) نے ملک بھر میں پانی کے بحران پر قابو پانے کے لیے دو بڑے ڈیموں کی تعمیر کا مطالبہ کیا ہے۔ ارسا کے مطابق ربیع کی فصل کے موسم کا آغاز یکم اکتوبر سے ہو رہا ہے جس کے لیے پانی کی 35 سے 40 فیصد کمی کا امکان ہے۔ ڈائریکٹر آپریشنز خالد ادریس رانا کی زیرِ صدارت ارسا کی ٹیکنیکل کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا۔

جس میں واپڈا، محکمہ موسمیات اور صوبوں کے نمائندے بھی شریک تھے۔ دورانِ اجلاس تمام اسٹیک ہولڈرز نے کاشتکاری کے موسم کے لیے ملک میں پانی کے موجودہ ذخائر اور اس کی کمی سے متعلق تخمینہ پیش کیا جو کہ 35 سے 40 فیصد کے درمیان ہے۔ خالد ادریس رانا نے  بتایا کہ ارسا اب اسٹیک ہولڈرز کے تخمینہ کی بنیاد پر پانی کی اوسط فراہمی سے متعلق کام کرے گی۔ انہوں نے بتایا کہ پیر کو مشاورتی کمیٹی کے اجلاس میں اس حوالے سے تجاویز جمع کروائی جائیں گی، تاکہ صوبوں کو پانی کی فراہمی اور تقسیم کے طریقہ کار کو حتمی شکل دی جاسکے۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک بھر میں پانی کی صورتحال انتہائی تشویش ناک ہے، تاہم اگر کسی مغربی لہر کے تحت دسمبر اور جنوری کے درمیان بارش ہو جائے تو پانی کی کمی کچھ حد تک پوری ہو جائے گی۔ خالد ادریس رانا نے کہا کہ ہر سال موسمیاتی تبدیلی کی صورتحال سنگین ہوتی جارہی ہے جس سے حکام کے لیے پانی کی مکمل فراہمی کو یقینی بنانا مشکل ہو رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پانی کی مسلسل کمی اور زمینی پانی کے استعمال نے بھی طویل المدتی منفی اثرات مرتب کیے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ جب کینال میں پانی کی سطح کم ہوتی ہے تو کسانوں کو فصلوں کو پانی پہنچانے کے لیے ٹیوب ویل کے ذریعے زمین سے پانی نکالنا پڑتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دیامر بھاشا ڈیم کے علاوہ کم از کم دو بڑے ڈیموں کی ضرورت ہے ورنہ ملک میں پانی کا مسئلہ ہر سال بڑھتا چلا جائے گا۔

ارسا کے اجلاس میں بتایا گیا کہ خریف کے موسم میں ملک بھر میں پانی کی کمی کا تخمینہ 36 فیصد لگایا گیا، تاہم گزشتہ دو ماہ میں ملک بھر میں بارشوں کی وجہ سے پانی کی کمی کم ہو کر 19 فیصد رہ گئی۔ 20 ستمبر کے اعداد و شمار کے مطابق صوبہ سندھ نے پانی کی کمی کا سب سے کم سامنا کیا جو کہ 16 فیصد تھی، جبکہ اس کے پارلیمانی اراکین نے پانی کی کمی اور فصلوں کے

نقصان سے متعلق احتجاج بھی کیا تھا۔ پنجاب کو 20 فیصد، خیبر پختونخوا کو 21 فیصد جبکہ بلوچستان کو پانی کی سب سے زیادہ کمی کا سامنا کرنا پڑا جو کہ 44 فیصد تھی۔ ایک عہدیدار نے بتایا کہ سندھ کو پانی کی کمی کا سب سے کم سامنا رہا جبکہ یہ مسئلہ بلوچستان میں زیادہ دیکھنے میں آیا، یہ اس بات کی نشاندہی ہے کہ بلوچستان کے پانی کے ذخائر جزوی طور پر سندھ میں استعمال ہوئے اور اس حوالے سے بلوچستان نے مشترکہ مفادات کونسل (سی سی آئی) میں شکایت بھی کی تھی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…