منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

کمرشل امپورٹرز کے مسائل فورا حل کیے جائیں‘ پیاف

datetime 25  مئی‬‮  2018 |

لاہور ( این این آئی) پاکستان انڈسٹریل اینڈ ٹریدرز ایسوسی ایشنز فرنٹ (پیاف) حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ کمرشل امپورٹرز کے مسائل حل کرے کیونکہ یہ مقامی صنعتوں کو بھی فیڈ کررہے ہیں، ان کے مسائل حل نہ ہونے سے مقامی صنعتیں بھی متاثر ہونگی۔ چیئرمین پیاف عرفان اقبال شیخ نے گزشتہ روز وائس چیئرمین تنویر احمد صوفی اور خواجہ شاہزیب اکرم کے ہمراہ کمر شل امپورٹرز کے

وفد سے ملاقات کے دوران کہا کہ کمرشل امپورٹرزدرآمدی سطح پرفائنل ٹیکس ریجم کے تحت 6فیصد ودہولڈنگ ٹیکس اداکرتے تھے جس کے بعد کمرشل امپورٹرز کو آڈٹ سے مستثنیٰ قرار دیا گیا تھا لیکن حالیہ بجٹ میں فائنل ٹیکس ریجم کے تحت 6فیصد ودہولڈنگ ٹیکس کو کم سے کم قرار دیتے ہوئے درآمدی خام مال کی ری اسسمنٹ اور آڈٹ اوپن کرتے ہوئے مزید ٹیکس عائد کرنے کی تجویز دی گئی ہے جو کہ کمرشل امپورٹرز کے ساتھ سراسرناانصافی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ کمرشل امپورٹرز ٹیکسٹائل سمیت دیگر برآمدی صنعتوں کی پیداواری ضرورت کو پورا کرنے کے لئے خام مال درآمد کرتے ہیں اور صنعتوں کو خام مال کی سپلائی چین کا حصہ ہیں۔درآمدی سطح پر فائنل ٹیکس ریجم میں 6فیصد ٹیکس کو کم سے کم قرار دینے ، ری اسسمنٹ اور اضافی ٹیکس عائد کرنے سے یقینی طور پر درآمدی لاگت میں نا قابل برداشت حد تک اضافہ ہو گاجس کے نتیجے میں خام مال بھی مہنگا ہو گا ۔ ٹیکسٹائل سمیت دیگر برآمدی صنعتوں کو مہنگا خام مال ملنے سے پیداواری لاگت بھی بڑھ جائے گی جبکہ چھوٹی صنعتوں مناسب داموں پر خام مال نہ ملنے سے ان صنعتوں کے بند ہو جانے کے خدشات بھی بڑھ جائیں گے۔ پیاف کے عہدیداران نے حکومت پر زور دیا کہ وہ یہ مسئلہ فوری طور پر حل کرے اور تجویز دی کہ کمرشل امپورٹرز کو ریفنڈ ریجیم میں لایا جائے جس سے بہت سے مسائل حل ہوجائیں گے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…