ہفتہ‬‮ ، 19 ستمبر‬‮ 2026 

بجلی اور گیس کی قیمتوں میں فوری اضافہ ،آئی ایم ایف کے دباؤ پر حکومت نے گھٹنے ٹیک دئیے

datetime 16  مارچ‬‮  2018 |

اسلام آباد(سی پی پی)حکومت نے بین الااقوامی مالیاتی فنڈ(آئی ایم ایف)کو قدرتی گیس اور بجلی کے ٹیرف میں فوری اضافے کی یقین دہانی کرادی۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق آئی ایم ایف کو مزید بتایا گیا کہ مالی اور بیرونی اکاؤنٹس میں بڑھتے ہوئے خطرات کو کم کرنے کے لیے بیرونی سرمایہ کاری سے چلنے والے منصوبوں کی اسکروٹنی کا عمل مزید بہتر بنایا جائے گا۔مالیاتی ادارے اور حکومت نے آمادگی کا اظہار کیا ہے کہ موجودہ حکومت کے

مختصر دور اقتدار کے دوران ہی محدود پیمانے پر ترقی کا حصول ممکن ہے جو صرف پبلک سیکٹر اداروں اور معاشی اصلاحاتی عمل میں بہتری کے ذریعے ممکن ہے۔دوسری جانب آئی ایم ایف نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ گزشتہ برس میں پاکستان کے گردشی قرضوں میں بہتری آئی تاہم اب صورتحال یکسر مختلف اور گردشی قرضے جی ڈی پی کا 70 فیصد ہو چکے ہیں لیکن حکام اپنی حالیہ پالیسی پر پرامید نظر آتی ہے۔آئی ایم ایف نے پاکستان کی اقتصادی کارکردگی رپورٹ میں زور دیا کہ سبسڈی پر مشتمل پالیسی کو از سرنو جائزہ لینے کی ضرورت ہے تاہم شعبہ گیس کے ٹیرف میں اضافہ کرنا ناگزیر ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ وصولی ہو سکے۔دوسری جانب حکومت کی جانب سے معاشی پالیسوں کو مثبت قرار دیا جارہا ہے جس میں امید ظاہر کی گئی کہ سرمایہ داروں کی دلچسپی اور بیرونی فنانسنگ کی وجہ سے وسط مدت میں ہی اقتصادی شرح نمو میں بہتری آئے گی۔آئی ایم ایف نے تجویز پیش کی کہ مالی خسارے کو جی ڈی پی کے 5 فیصد تک محدود رکھنے سے قبل اس وقت اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے، ساتھ ہی عالمی ادارے نے مالی نظم و ضبط کو مضبوط کرنے پر زور دیا تاکہ قرض سے منسلک خطرات کو کم کیا جا سکے۔مالیاتی ادارے کا کہنا ہے کہ ٹیکس میں کمی اور چھوٹ کو ختم کرکے مطلوبہ ہدف حاصل کیا جاسکتا ہے۔

اس حوالے سے کہا گیا کہ ٹیکس کی مد میں جی ڈی پی کا 0.3 فیصد، پیٹرولیم، ود ہولڈنگ اور ایکسائز ٹیکس میں جی ڈی پی کا 0.1 فیصد اور اخراجات میں جی ڈی پی کا 0.1 فیصد شامل ہے۔آئی ایم ایف نے زور دیا کہ گردشی قرضوں میں کمی کے لیے دیگر شبعہ جات پر بھی توجہ دینے کی ضرورت ہے جس میں شعبہ توانائی بھی شامل ہے۔مالیاتی ادارے نے پی آئی اے اور پاکستان اسٹیل ملز کے خسارے کو بھی قابو کرنے پر زور دیا۔دوسری جانب حکومتی حکام کا خیال ہے کہ رواں مالی اورمانیٹری پالیسی سے طے شدہ ترقی کے اہداف حاصل ہو سکیں گے اور مالی خسارہ جی ڈی پی کا 5 فیصد تک رہے گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…