جمعرات‬‮ ، 03 اپریل‬‮ 2025 

بجلی اور گیس کی قیمتوں میں فوری اضافہ ،آئی ایم ایف کے دباؤ پر حکومت نے گھٹنے ٹیک دئیے

datetime 16  مارچ‬‮  2018
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

اسلام آباد(سی پی پی)حکومت نے بین الااقوامی مالیاتی فنڈ(آئی ایم ایف)کو قدرتی گیس اور بجلی کے ٹیرف میں فوری اضافے کی یقین دہانی کرادی۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق آئی ایم ایف کو مزید بتایا گیا کہ مالی اور بیرونی اکاؤنٹس میں بڑھتے ہوئے خطرات کو کم کرنے کے لیے بیرونی سرمایہ کاری سے چلنے والے منصوبوں کی اسکروٹنی کا عمل مزید بہتر بنایا جائے گا۔مالیاتی ادارے اور حکومت نے آمادگی کا اظہار کیا ہے کہ موجودہ حکومت کے

مختصر دور اقتدار کے دوران ہی محدود پیمانے پر ترقی کا حصول ممکن ہے جو صرف پبلک سیکٹر اداروں اور معاشی اصلاحاتی عمل میں بہتری کے ذریعے ممکن ہے۔دوسری جانب آئی ایم ایف نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ گزشتہ برس میں پاکستان کے گردشی قرضوں میں بہتری آئی تاہم اب صورتحال یکسر مختلف اور گردشی قرضے جی ڈی پی کا 70 فیصد ہو چکے ہیں لیکن حکام اپنی حالیہ پالیسی پر پرامید نظر آتی ہے۔آئی ایم ایف نے پاکستان کی اقتصادی کارکردگی رپورٹ میں زور دیا کہ سبسڈی پر مشتمل پالیسی کو از سرنو جائزہ لینے کی ضرورت ہے تاہم شعبہ گیس کے ٹیرف میں اضافہ کرنا ناگزیر ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ وصولی ہو سکے۔دوسری جانب حکومت کی جانب سے معاشی پالیسوں کو مثبت قرار دیا جارہا ہے جس میں امید ظاہر کی گئی کہ سرمایہ داروں کی دلچسپی اور بیرونی فنانسنگ کی وجہ سے وسط مدت میں ہی اقتصادی شرح نمو میں بہتری آئے گی۔آئی ایم ایف نے تجویز پیش کی کہ مالی خسارے کو جی ڈی پی کے 5 فیصد تک محدود رکھنے سے قبل اس وقت اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے، ساتھ ہی عالمی ادارے نے مالی نظم و ضبط کو مضبوط کرنے پر زور دیا تاکہ قرض سے منسلک خطرات کو کم کیا جا سکے۔مالیاتی ادارے کا کہنا ہے کہ ٹیکس میں کمی اور چھوٹ کو ختم کرکے مطلوبہ ہدف حاصل کیا جاسکتا ہے۔

اس حوالے سے کہا گیا کہ ٹیکس کی مد میں جی ڈی پی کا 0.3 فیصد، پیٹرولیم، ود ہولڈنگ اور ایکسائز ٹیکس میں جی ڈی پی کا 0.1 فیصد اور اخراجات میں جی ڈی پی کا 0.1 فیصد شامل ہے۔آئی ایم ایف نے زور دیا کہ گردشی قرضوں میں کمی کے لیے دیگر شبعہ جات پر بھی توجہ دینے کی ضرورت ہے جس میں شعبہ توانائی بھی شامل ہے۔مالیاتی ادارے نے پی آئی اے اور پاکستان اسٹیل ملز کے خسارے کو بھی قابو کرنے پر زور دیا۔دوسری جانب حکومتی حکام کا خیال ہے کہ رواں مالی اورمانیٹری پالیسی سے طے شدہ ترقی کے اہداف حاصل ہو سکیں گے اور مالی خسارہ جی ڈی پی کا 5 فیصد تک رہے گا۔

موضوعات:



کالم



چانس


آپ مورگن فری مین کی کہانی بھی سنیے‘ یہ ہالی ووڈ…

جنرل عاصم منیر کی ہارڈ سٹیٹ

میں جوں ہی سڑک کی دوسری سائیڈ پر پہنچا‘ مجھے…

فنگر پرنٹس کی کہانی۔۔ محسن نقوی کے لیے

میرے والد انتقال سے قبل اپنے گائوں میں 17 کنال…

نارمل معاشرے کا متلاشی پاکستان

’’اوئے پنڈی وال‘ کدھر جل سیں‘‘ میں نے گھبرا…

آپ کی امداد کے مستحق دو مزید ادارے

یہ2006ء کی انگلینڈ کی ایک سرد شام تھی‘پارک میںایک…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے (دوسرا حصہ)

بلوچستان کے موجودہ حالات سمجھنے کے لیے ہمیں 1971ء…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے؟ (پہلا حصہ)

قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں…

اچھی زندگی

’’چلیں آپ بیڈ پر لیٹ جائیں‘ انجیکشن کا وقت ہو…

سنبھلنے کے علاوہ

’’میں خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا تھا اور وہ مجھے…

ہم سیاحت کیسے بڑھا سکتے ہیں؟

میرے پاس چند دن قبل ازبکستان کے سفیر اپنے سٹاف…

تیسری عالمی جنگ تیار(دوسرا حصہ)

ولادی میر زیلنسکی کی بدتمیزی کی دوسری وجہ اس…