بدھ‬‮ ، 24 جون‬‮ 2026 

اوپن مارکیٹ میں ڈالر کی قلت کے خدشات پر اسٹیٹ بینک کا اہم فیصلہ

datetime 2  جنوری‬‮  2018 |

کراچی (آن لائن) اوپن مارکیٹ میں ڈالر کی قلت کے حوالے سے پیدا ہونے والے خدشات کے باعث اسٹیٹ بینک آف پاکستان ( ایس بی پی ) نے فیصلہ کیا ہے کہ غیر ملکی کرنسیوں کی برآمدات کے مقابلے میں کیش ڈالر کی درآمدی ضرورت کو 35 فیصد تک محدود کیا جائے گا۔مرکزی بینک کی جانب سے گزشتہ روز جاری کیے گئے سرکلر میں کرنسی ایکسچینچ کمپنیوں سے کہا گیا ہے کہ وہ غیر ملکی کرنسیوں

کو دبئی برآمد کرنے کے لیے 100فیصد کے بجائے صرف 35 فیصد کیش ڈالر استعمال کریں۔ سرکلر کے مطابق یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ ایکسچینچ کمپنیاں غیر ملکی کرنسی کے مقابلے میں کیش ڈالر کی درآمد جاری رکھ سکتی ہیں، تاہم ایک ماہ میں کیش ڈالر کی درآمد غیر ملکی کرنسی کی کل برآمدات کے 35 فیصد سے تجاوز نہیں کرے گی۔ اسٹیٹ بینک کے سرکلر میں اس حوالے سے نہیں بتایا گیا کہ باقی کے 65 فیصد ڈالر کی درآمدات کیسے ہوگی لیکن ایکسچینچ کمپنیوں کا کہنا ہے کہ بقیہ رقم بینک اکاؤنٹس کے ذریعے منتقل کی جائے گی۔ ایکسچینج کمپنیز ایسوسی ایشن آف پاکستان (ای سی اے پی) کے جنرل سیکریٹری ظفر پراچہ کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ حیران کن ہے اور اس سے مارکیٹ کے میکانزم کو نقصان پہنچے گا کیونکہ ڈالر کی آمد کو محدود کردیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسٹیٹ بینک نے پہلے اوپن مارکیٹ میں ڈالر کی کثیر تعداد میں دستیابی پر غیر ملکی کرنسیوں کے برآمدات کے مقابلے میں 100 فیصد کیش ڈالر کی درآمد کی اجازت دی تھی۔ انہوں نے کہا کہ نئے فیصلے نے اس عمل کو روک دیا ہے اور ہم دوبارہ ڈالر کے حصول کے لیے بینکوں پر انحصار کریں گے، ان کا مزید کہنا تھا کہ بینکوں کے ذریعے 65 فیصد ڈالر کی درآمد کا مطلب یہ ہے کہ ایکسچینچ کمپنیوں تک ڈالر پہنچنے میں 3 سے 4 دن لگیں گے جبکہ اس وقت 100

فیصد کیش اسی دن دستیاب ہوسکتا ہے۔ تاہم فاریکس ایسوسی ایشن آف پاکستان کے صدر ملک بوستان کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ ایکسچینچ کمپنیوں سے مشاورت کے بعد کیا گیا اور اس سے درآمدی لاگت میں کمی ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ انشورنس اور دیگر اخراجات کے باعث غیر ملکی کرنسیوں کی برآمدات کے مقابلے میں ڈالر کی درآمدی قیمت زیادہ ہے۔ یہ بھی پڑھیں: اسٹیٹ بینک کی مداخلت کے بعد روپے کی قدر مستحکم ان کا

کہنا تھا کہ بینکوں کے پاس ڈالر کے کافی ذخائر ہیں اور بینکوں کی جانب سے تاخیر یا اوپن مارکیٹ میں ڈالر کی کمی کا کوئی امکان نہیں ہے جبکہ باقی 65 فیصد درآمد شدہ ڈالر جلد ہی دستیاب ہوں گے۔ خیال رہے کہ کچھ کرنسی ماہرین نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ نئے فیصلے کے بعد ڈالر کی قلت ہوگی اور اوپن مارکیٹ اور بینکنگ مارکیٹ کی قیمتوں کے فرق میں اضافہ ہوگا۔



کالم



فورنگ میں ایک رات


ہماری لینڈ لیڈی کے والدین غریب تھے‘ وہ ٹائون…

محمد بوٹا انجم

محمد بوٹا میاں چنوں کے گائوں چک 15 میں پیدا ہوا‘…

فلم میں بھی ہارنے سے انکار

یہ تبلیسی شہر تھا‘ اکتوبر کی 8 تاریخ تھی اور سن…

Pale Blue Dot

کارل ایڈورڈ سیگن (Carl Edward Sagan) خلانورد اور پلانٹری…

نصیب کی مکھی

ٹومی فلیٹ ووڈ (Tommy Fleetwood) دنیا کا مشہور گالفر ہے‘…

8 بجے تک

میرا جم میرے گھر سے پانچ منٹ کی دوری پر ہے‘ میں…

ریو سیکریٹو

دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…