اسلام آباد (آن لائن) زرعی ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان میں چاول کے کاشت کاروں کو اب نئے تجربات کرنے چاہئیں جس سے وہ پیداواری لاگت کو بآسانی برداشت کرنے کے ساتھ ساتھ کئی گنا زیادہ منافع بھی کما سکیں گے۔اس سلسلے میں انہوں نے فلپائن ،انڈونیشیا اور ویت نام جیسے ممالک کی مثال دی ہے جہاں جب چاول کی فصل کاشت کی جاتی ہے تو اسی کھیت کو فش فارم کی شکل دے کر اس میں مچھلیوں کی افزائش شرو ع کر دی جاتی ہے۔
چونکہ چاولوں کی نشوونما پانی کی وافر مقدار میں ہوتی ہےتوماہرین کے مطابق اس عمل کے تین فائدے ہوتے ہیں ۔پہلا فائدہ یہ ہے کہ مچھلیوں کا فضلہ فصل کے لئے کھاد کا کام دیتا ہے ۔دوسرا فائدہ یہ کہ چاول کی فصل پر جو کیڑے اور سنڈیاں حملہ آور ہوتی ہیں۔وہ مچھلیوں کی خوراک بن جاتی ہیں۔اس طرح چاول کی فصل کیڑوں سنڈیوں سے ہونے والی نقصان سے محفوظ رہتی ہے اور تیسرا اور آخری فائدہ یہ ہے کہ جب فصل پک کر تیار ہوتی ہے تو مچھلی بھی تیار ہو چکی ہوتی ہے۔اس طرح وہاں کا کاشتکار چاول کے ساتھ ساتھ مچھلی بھی مارکیٹ میں فروخت کرکےدگنا منافع کماتا ہے۔چھلیوں کی خوراک بن جاتی ہیں۔اس طرح چاول کی فصل کیڑوں سنڈیوں سے ہونے والی نقصان سے محفوظ رہتی ہے اور تیسرا اور آخری فائدہ یہ ہے کہ جب فصل پک کر تیار ہوتی ہے تو مچھلی بھی تیار ہو چکی ہوتی ہے۔اس طرح وہاں کا کاشتکار چاول کے ساتھ ساتھ مچھلی بھی مارکیٹ میں فروخت کرکےدگنا منافع کماتا ہے۔ زرعی ماہرین کے مطابق پاکستانی کاشتکار کو بھی اس طرح کے تجربات کرنے چاہئیں تاکہ آنے والے برسوں زراعت کو درپیش چیلنجز کا مقابلہ کیا جاسکے۔ واضح رہے کہ پاکستان میں سالانہ ساٹھ لاکھ ایکڑ رقبے پر چاول کاشت ہوتا ہے اور اس کی سالانہ پیداوار 47.6ملین ٹن ہے۔ اس قیمتی فصل کی ایکسپورٹ سے پاکستان کو سالانہ 2ارب ڈالر کا زرمبادلہ حاصل ہوتا ہے۔



















































