منگل‬‮ ، 23 جون‬‮ 2026 

چاول کے کھیت کوفش فارم بناکرمچھلیاں پیداکی جاسکتی ہیں ،زرعی ماہرین

datetime 3  مارچ‬‮  2017 |

اسلام آباد (آن لائن) زرعی ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان میں چاول کے کاشت کاروں کو اب نئے تجربات کرنے چاہئیں جس سے وہ پیداواری لاگت کو بآسانی برداشت کرنے کے ساتھ ساتھ کئی گنا زیادہ منافع بھی کما سکیں گے۔اس سلسلے میں انہوں نے فلپائن ،انڈونیشیا اور ویت نام جیسے ممالک کی مثال دی ہے جہاں جب چاول کی فصل کاشت کی جاتی ہے تو اسی کھیت کو فش فارم کی شکل دے کر اس میں مچھلیوں کی افزائش شرو ع کر دی جاتی ہے۔

چونکہ چاولوں کی نشوونما پانی کی وافر مقدار میں ہوتی ہےتوماہرین کے مطابق اس عمل کے تین فائدے ہوتے ہیں ۔پہلا فائدہ یہ ہے کہ مچھلیوں کا فضلہ فصل کے لئے کھاد کا کام دیتا ہے ۔دوسرا فائدہ یہ کہ چاول کی فصل پر جو کیڑے اور سنڈیاں حملہ آور ہوتی ہیں۔وہ مچھلیوں کی خوراک بن جاتی ہیں۔اس طرح چاول کی فصل کیڑوں سنڈیوں سے ہونے والی نقصان سے محفوظ رہتی ہے اور تیسرا اور آخری فائدہ یہ ہے کہ جب فصل پک کر تیار ہوتی ہے تو مچھلی بھی تیار ہو چکی ہوتی ہے۔اس طرح وہاں کا کاشتکار چاول کے ساتھ ساتھ مچھلی بھی مارکیٹ میں فروخت کرکےدگنا منافع کماتا ہے۔چھلیوں کی خوراک بن جاتی ہیں۔اس طرح چاول کی فصل کیڑوں سنڈیوں سے ہونے والی نقصان سے محفوظ رہتی ہے اور تیسرا اور آخری فائدہ یہ ہے کہ جب فصل پک کر تیار ہوتی ہے تو مچھلی بھی تیار ہو چکی ہوتی ہے۔اس طرح وہاں کا کاشتکار چاول کے ساتھ ساتھ مچھلی بھی مارکیٹ میں فروخت کرکےدگنا منافع کماتا ہے۔ زرعی ماہرین کے مطابق پاکستانی کاشتکار کو بھی اس طرح کے تجربات کرنے چاہئیں تاکہ آنے والے برسوں زراعت کو درپیش چیلنجز کا مقابلہ کیا جاسکے۔ واضح رہے کہ پاکستان میں سالانہ ساٹھ لاکھ ایکڑ رقبے پر چاول کاشت ہوتا ہے اور اس کی سالانہ پیداوار 47.6ملین ٹن ہے۔ اس قیمتی فصل کی ایکسپورٹ سے پاکستان کو سالانہ 2ارب ڈالر کا زرمبادلہ حاصل ہوتا ہے۔



کالم



فورنگ میں ایک رات


ہماری لینڈ لیڈی کے والدین غریب تھے‘ وہ ٹائون…

محمد بوٹا انجم

محمد بوٹا میاں چنوں کے گائوں چک 15 میں پیدا ہوا‘…

فلم میں بھی ہارنے سے انکار

یہ تبلیسی شہر تھا‘ اکتوبر کی 8 تاریخ تھی اور سن…

Pale Blue Dot

کارل ایڈورڈ سیگن (Carl Edward Sagan) خلانورد اور پلانٹری…

نصیب کی مکھی

ٹومی فلیٹ ووڈ (Tommy Fleetwood) دنیا کا مشہور گالفر ہے‘…

8 بجے تک

میرا جم میرے گھر سے پانچ منٹ کی دوری پر ہے‘ میں…

ریو سیکریٹو

دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…