بدھ‬‮ ، 26 اگست‬‮ 2026 

پاکستان میں 110 اقسام کے آم پیدا ہوتے ہیں

datetime 20  مئی‬‮  2015 |

اسلام آباد(نیوز ڈیسک) پاکستان میں 110 سے زیادہ اعلیٰ اقسام کے آم پیدا ہوتے ہیں آم کی مجموعی ملکی پیداوار میں صوبہ پنجاب کا حصہ 60 فیصد ہے۔ گزشتہ چند سالوں کے دوران پاکستان ن نے امریکا ‘ جاپان ‘ اردن ‘ موریشس اور جنوبی کوریا کی منڈیوں تک کامیاب رسائی حاصل کی ہے جبکہ اس سے پہلے تقریباً 60 تا 70 ہزار ٹن آم زیادہ تر متحدہ عرب امارات کو برآمد کیا جاتا تھا۔ زرعی ماہرین نے کہا ہے کہ آم کی برآمدات کے فروغ کے لئے نئی منڈیوں تک رسائی کے ساتھ ساتھ آم کی پراسیسنگ پر خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے۔
جس سے آم کی ملکی برآمدات میں خاطر خواہ اضافہ سے قیمتی زرمبادلہ کما کر ملکی معیشت کو مستحکم کیا جاسکتا ہے۔ اس وقت آم کی مجموعی قومی پیداوار کا صرف 6 فیصد حصہ برآمد کیا جاتا ہے جو انتہائی کم ہے ہارٹی کلچر کے اعدادو شمار کے مطابق پاکستان میں آم رقبے اور پیداوار کے لحاظ سے ترشاوہ پھلوں کے بعد دوسرے نمبر پر آتا ہے۔ ملک میں آم کے باغات کا کل کاشت شدہ رقبہ 0.42 ملین ایکڑ ہے جبکہ ملک میں سالانہ 1.699 ملین ٹن آم کی پیداوار حاصل ہوتی ہے رپورٹ کے مطابق صوبہ پنجاب میں آم کا زیر کاشت رقبہ 0.275 ملین ایکڑ اور پیداوار 1.304 ملین ٹن ہے۔ صوبے میں آم کی کاشت کے لحاظ سے ملتان ڈویژن پہلے نمبر پر ہے جہاں پر ایک لاکھ 18 ہزار 400 ایکڑ رقبہ پر آم کے باغات اگائے گئے ہیں جس سے سالانہ 6 لاکھ 35ہزار 300ٹن پیداوار حاصل ہوتی ہے جبکہ بہاولپور ڈویژن میں 74 ہزار 400 ایکڑ پر کاشت کئے گئے آم کے باغات سے 2 لاکھ 85 ہزار 378 ٹن آم کی پیداوار حاصل کی جارہی ہے اسی طرح ڈیرہ غازی خان ڈویژن صوبہ پنجاب میں آم کی پیداوار کے حوالے سے تیسرا بڑا ڈویژن ہے جہاں پر 50 ہزار 192 ایکڑ رقبہ پر کاشت سے 2 لاکھ 45 ہزار 600 ٹن آم کی پیداوار حاصل ہوتی ہے۔زرعی ماہرین نے کہا ہے کہ آم کے پودوں کی بڑھوتری کے لئے موزوں ترین درجہ حرارت 25 ڈگری سینٹی گریڈ ہے تاہم آم کے باغات 10 ڈگری سینٹی گریڈ سے 37 ڈگری سینٹی گریڈ تک کامیابی سے اگائے جاسکتے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ آم کی بھرپور پیداوار کے لئے آم کے باغات کو مناسب وقت پر غذائی اجزاءکی دستیابی ‘ آبپاشی ‘ بیماریوں اور کیڑوں سے بچاﺅ انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…