بدھ‬‮ ، 26 اگست‬‮ 2026 

زیتون کو ملک کی سب سے بڑی فصل بنانے کیلیے عملی کام کا آغاز

datetime 11  مئی‬‮  2015 |

اسلام آباد(نیوز ڈیسک) زیتون کو وڑن 2025 کے تحت میں پاکستان کی سب سے بڑی پیداواری فصل بنانے کیلیے عملی طور پر کام کا آغاز کردیا گیا ہے جس کے تحت آئندہ پانچ سالوں کے دوران پچاس ہزار پودے لگائے جائیں گے۔
ماسوائے سندھ کے ملک بھرمیں25 لاکھ ایکڑاراضی پرزیتون کی کاشت کی جاسکتی ہے۔ ملک بھرمیں زیتون کے پھل سے مصنوعات تیار کرنے کیلیے دوکمپنیاں کام کررہی ہیں جبکہ مزید تین کمپنیوں نے رجوع کیاہے۔ زیتون کے پھل سے تین طرح کے آئل، مٹھائی، آچار، جام، جیلی، بسکٹ، قہوہ سمیت دیگرمصنوعات بنائی جارہی ہیںجومارکیٹ میں موجود ہیں۔ ان خیالات کااظہار پروجیکٹ برائے زیتون کی ترقی کے نیشنل پروجیکٹ ڈائریکٹر ڈاکٹر منیر احمد نے ایکسپریس سے خصوصی گفتگوکے دوران کیا۔
ڈاکٹر منیر احمد کی خصوصی معاونت کرتے ہوئے ڈاکٹر ناصر محمود چیمہ نے ایکسپریس کو بتایاکہ پاکستان میںاس وقت پٹرولیم مصنوعات کی درآمد کے بعدسب سے بڑابل ہم ایڈیبل آئل کی امپورٹ پرخرچ کرتے ہیںجواس وقت 2 کھرب 25 ارب 69 کروڑ 61 لاکھ روپے ہے، جو ایڈیبل ا?ئل امپورٹ کیا جاتاہے اس میں سویا بین، پام آئل اور دیگر شامل ہیں، سویابین کی درآمد پر4ارب 56 کروڑ5 لاکھ،پام ا?ئل کی درا?مد پر 2 کھرب 11 ارب،82 کروڑ،62 لاکھ روپے جبکہ دیگر پر 9 ارب 30 کروڑ93 لاکھ روپے خرچ ہوتے ہیں۔
ڈاکٹر ناصر نے بتایاکہ ہمارے ہاںزیتون کی کاشت کاسلسلہ تین سال پہلے اٹلی کے تعاون سے شروع کی گیاہے جس کے مثبت نتائج سامنے آئے ہیں۔ ماسوائے سندھ کے ملک بھر میںزیتون کی کاشت کیلیے جوڈیٹا تیار کیا گیا ہے اس کے مطابق 25 لاکھ ایکڑرقبے پراس کی کاشت کی جاسکتی ہے۔ اس کی کاشت کیلیے ضروری ہے سب سے موزوںجگہ پوٹھوہار ہے،جہاں بیروزگاری بھی ہے۔ سندھ میں پیداوارنہ ہونے کے متعلق بتایا کہ مارچ میں اس کی فصل تیارہوتی ہے اوراس وقت سندھ میںدرجہ حرارت 30 ڈگری سینٹی گریڈسے تجاوز کرجاتاہے جس سے اس پودے کا پھل خراب ہوجاتا ہے۔
اس وقت اس کی کاشت کامیابی سے پنجاب، بلوچستان، فاٹا، خیبرپختونخوا،اوراب آزاد کشمیر میں اس کے مثبت نتائج کے باعث وہاں کاشت کیاجائیگا۔ اس وقت پاکستان میں زیتون کی درآمدکابل 3.5 ملین ڈالر ہے، زیتون کی کاشت کیلیے عالمی مارکیٹ سے پودے منگوائے جارہے ہیں۔ اس وقت پچانوے ہزارپودے منگوائے گئے ہیں جو اٹلی، یونان، اسپین، تونیسیا سے ٹینڈرکے ذریعے حاصل کیے گئے ہیں۔ 4 سال کے بعدان کی امپورٹ بھی بندکردی جائے گی کیونکہ ان کی ڈرافٹنگ کیلیے یہاں پر کام شروع کردیا گیا ہے جوچار سال میں مکمل ہوجائیگا۔ ڈاکٹر ناصر نے بتایا کہ فی ہیکٹراسکی پیداوار سے کاشتکار کو6 لاکھ 30 ہزارروپے حاصل ہوں گے۔
ایک پودا سال میںدوبارپھل دیتا ہے، ایک مارچ اپریل اور دوسرا اگست ستمبرمیں،اوراس پودے کی عمرنوسوسال ہے جس کامطلب ایک پودادس پشتوں تک پیداوارفراہم کرتا رہیگا۔ ڈاکٹر ناصر نے بتایاکہ جوزیتوں پاکستان میں پیدا ہورہا ہے اس کا معیار عالمی درجہ بندی کے مطابق ہے جس کاٹیسٹ ہم نے اپنی لیبارٹریوں سے کروایا ہے جو آئی ایس اوکے معیار کے مطابق ہیں۔ پی اے ا?رسی کی پلیٹ فارم سے اس کاشت میں جومعاونت کی گئی ہے اس کی مثال نہیں ہے، کاشتکاروں کی پودے مفت تقسیم کیے گئے ہیں جوسلسلہ جاری ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…