جمعرات‬‮ ، 27 اگست‬‮ 2026 

پاکستانیوں کی دبئی میں تقریباً 441 ارب روپے کی سرمایہ کاری

datetime 17  فروری‬‮  2015 |

کراچی  2013ء اور 2014ء کی درمیانی مدت میں پاکستانیوں نے دبئی میں 16 ارب یو اے ای درہم یعنی 441.76 ارب روپے کی مالیت کی املاک کی خریداری کی۔ جبکہ اس کے مقابلے میں ہندوستانی شہریوں نے 36 ارب درہم کی خریداری کی۔ پاکستانیوں نے 2014ء کے دوران 7.5 ارب درہم یعنی 207.075 ارب روپے مالیت کی جائیداد کی خریداری کی، چنانچہ وہ اس سال دبئی میں غیرملکی خریداروں کی فہرست میں دوسری بڑی درجے پر رہے۔ تاہم 2014ء میں ہندوستانی سرمایہ کار 18.23 ارب درہم کی سرمایہ کاری کے ذریعے سرفہرست رہے، جبکہ 2013ء میں ان کی سرمایہ کاری 18 ارب درہم تھی۔ دبئی لینڈ ڈیپارٹمنٹ کے اعدادوشمار کے مطابق 2013ء میں 8.6 درہم کی سرمایہ کاری کی بنیاد پر 2014ء اور 2013ء میں پاکستانیوں کی کل خریداری 16.1 ارب درہم رہی۔ مارکیٹ ذرائع کا کہنا ہے کہ سیاسی رہنما، سرکاری حکام اور کاروباری شخصیات دبئی کی املاک کے اہم خریدار تھے۔ ایک اسٹیٹ ایجنٹ کا کہنا تھا کہ 2008ء کے بعد زیادہ تر کاروباری شخصیات نے اپنا سرمایہ واپس نکال لیا تھا۔ ایک بلڈر نے اس امکان کو مسترد کردیا کہ دبئی میں شروع کیے گئے نئے پروجیکٹ کے لیے کسی جائیداد کو کسی بلڈر یا ڈیویلپر نے چھوڑ دیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ بلڈرز کراچی میں بہت زیادہ مصروف ہیں، جہاں جائیداد کی طلب بہت زیادہ بڑھی ہوئی ہے۔ دبئی میں برطانیہ سے کی جانے والی سرمایہ کاری گر کر 2014ء 9.318 ارب درہم ہوگئی تھی، جبکہ 2013ء میں یہ 10.4 ارب درہم تھی۔ دبئی کی ریئل اسٹیٹ مارکیٹ میں غیر عربوں کی سرمایہ کاری 29 ہزار اٹھانوے لین دین کے سودوں کے ذریعے کی کل قدر 64 ارب درہم تک جا پہنچی ہے، جو 2013ء میں 69 ارب درہم تھی۔ ایران کے شہریوں نے 2014ء میں 4.5 ارب درہم جبکہ کینیڈا کے شہریوں نے 3.157 درہم کی سرمایہ کاری کی۔ خلیج تعاون کونسل (جی سی سی) کی ریاستوں کے شہریوں نے 2014ء کے دورانسات ہزار ایک سو چھیاسی سرمایہ کاری کے ذریعے 32 ارب درہم کی مالیت کی جائیداد خریدی۔ امارات نے 22.771 ارب درہم کی سرمایہ کاری کی، چار ہزار چار سو باون سودوں کا اندراج کیا گیا، جبکہ سعودی باشندے دوسرے نمبر پر رہے، انہوں نے ایک ہزار سات سو سودوں کے ساتھ 5.207 ارب درہم کی سرمایہ کاری کی۔ ان کے بعد کویت کے شہری رہے، جنہوں نے 426 سودوں کے ذریعے 1.271 ارب درہم کی سرمایہ کاری کی۔ پھر قطر کے باشندوں کا نمبر ہے، جنہوں نے 221 سودوں کے ذریعے 1.969 ارب درہم، اور بحرین کے شہریوں نے 187 سودوں کے ذریعے 483 درہم کی سرمایہ کاری کی۔ عمان سے تعلق رکھنے والے سرمایہ کاروں نے 119 سودوں کے ذریعے 61 کروڑ تیس لاکھ روپے کا سرمایہ داخل کیا۔ عرب سرمایہ کاروں نے 12 ارب درہم کی مالیت کے کل پانچ ہزار چار سو اکتیس سودوں کا اندراج کرایا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…