پیر‬‮ ، 20 اپریل‬‮ 2026 

جوان بوڑھے اور بوڑھے جوان۔۔ حیرت انگیز تحقیق‎

datetime 6  جولائی  2016 |

ایک نئی تحقیق کے مطابق کسی بھی انسان کی حقیقی عمر اپنی جگہ، عام مردوں اور خواتین کی حیاتیاتی عمر اصل سے بہت زیادہ یا کم بھی ہو سکتی ہے، یعنی جوان لوگ دراصل بہت بوڑھے اور بوڑھے بہت جوان بھی ہو سکتے ہیں۔امریکی دارالحکومت واشنگٹن سے ملنے والی رپورٹوں کے مطابق امریکا ہی کے طبی ماہرین کی ایک نئی ریسرچ کے نتائج سے پتہ چلا ہے کہ لازمی نہیں کہ ایسا صرف بڑھاپے ہی میں ہو، بلکہ جوانی میں بھی عین ممکن ہے کہ عام مردوں اور خواتین کی حقیقی اور حیاتیاتی عمروں میں واضح فرق پایا جائے۔
اس مطالعے کے دوران ریاست شمالی کیرولائنا کی ڈیوک یونیورسٹی کے ماہرین کی ایک ٹیم نے 800 سے زائد ایسے افراد کی صحت کا تفصیلی جائزہ لیا، جن میں سے ہر ایک کی طبعی عمر 38 برس تھی۔ محققین کو پتہ چلا کہ ان زیر مطالعہ افراد میں سے کافی زیادہ کی انفرادی طور پر طبعی اور حیاتیاتی عمروں میں بہت زیادہ فرق پایا جاتا تھا۔
اس تحقیقی ٹیم کے سربراہ اور مطالعے کے نتائج مرتب کرنے والے ماہر ڈینئل بَیلسکی نے بتایا کہ انہیں اور ان کے ساتھیوں کو پتہ چلا کہ ان آٹھ سو سے زائد افراد میں سے کئی کی حیاتیاتی عمریں 40 اور 50 برس کے درمیان تھیں، متعدد کی حیاتیاتی عمریں 50 اور 59 برس کے درمیان نکلیں جبکہ ایک واقعے میں تو متعلقہ فرد کی حیاتیاتی عمر 61 برس نکلی حالانکہ طبعی طور پر ہر کسی کی عمر صرف 38 برس تھی۔
اس ریسرچ کے دوران متعلقہ افراد کے مختلف جسمانی اعضاء کی کارکردگی اور صلاحیت کا تعین کرتے ہوئے ان کی حیاتیاتی عمروں کا تعین کیا گیا۔ اس کے لیے ان افراد کے گردوں اور پھیپھڑوں کی فعالیت کے علاوہ ان کے بلڈ پریشر اور کھانا ہضم کرنے کے نظام تک کا سائنسی بنیادوں پر تجزیہ کیا گیا۔ اس سے قبل انہی سینکڑوں زیر مطالعہ افراد کے ایسے جسمانی اعضاء اور عوامل کا اس وقت بھی مطالعہ کیا گیا تھا جب ان میں سے ہر ایک کی طبعی عمر پہلے 22 اور پھر 32 برس تھی۔
آخری مرحلے میں جب اس تحقیق میں حصہ لینے والے ہر شہری کی طبعی عمر ٹھیک 38 برس ہو گئی، تو ان کی حیاتیاتی عمروں کا تعین کیا گیا۔ اس پر ماہرین کو پتہ یہ چلا کہ اگر بہت سے افراد کی حیاتیاتی عمریں پچاس اور ساٹھ برس تک تھیں تو کئی شہریوں کی یہی عمریں 32، 30 اور 28 برس تک بھی پائی گئیں۔
ڈینئل بَیلسکی کے بقول انسانوں میں اکثر بیماریوں کی وجہ بڑھاپا بنتا ہے اور اس ریسرچ کے نتیجے میں یہ بات طے ہو گئی ہے کہ مختلف بیماریوں کے علاج کے لیے اس بڑھاپے پر بھی توجہ دی جانی چاہیے جو طبعی جواں عمری میں آنا شروع ہو جاتا ہے۔
ڈیوک یونیورسٹی کے اس محقق نے کہا، ’’موجودہ طبی سائنس میں زیادہ توجہ مختلف بیماریوں کا سبب بننے والے اس بڑھاپے یا ضعف پر دی جاتی ہے جو بزرگ شہریوں میں نظر آتا ہے۔ اب جوانوں میں ضعف اور بڑھاپے پر بھی توجہ مرکوز کرنے کی ضرورت ہے۔‘‘

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



گریٹ گیم(دوسرا حصہ)


حضرت آدم علیہ السلام اورحضرت حواء علیہ السلام…

گریٹ گیم

یہ گیم ہابیل اور قابیل کی لڑائی سے شروع ہوئی تھی‘…

ایران کی سب سے بڑی کام یابی

وہ آرٹسٹ تھی اور اس کا نام مرینا ابراموویک (Marina…

لفظ اضافی ہوتے ہیں

نیویارک کے اطالوی ریستوران میں نوجوان لڑکی نے…

ایرانی لوگ کیسے ہیں(آخری حصہ)

ایران کا دوسرا کمال سیاحت ہے‘ میں 120 ملک گھوم…

ایرانی لوگ کیسے ہیں(پہلا حصہ)

جون 2025ء تک ایران میں پاکستان کا تاثر اچھا نہیں…

مشہد میں دو دن (آخری حصہ)

ہم اس کے بعد حرم امام رضاؒ کی طرف نکل گئے‘ حضرت…

مشہد میں دو دن

ایران کے سفر کی پہلی تحریک حسین باقری تھے‘ یہ…

ایران کیا تھا اور کیا ہو گیا

پیارے قارئین: ایران محض ایک ملک نہیں ہے یہ پہلی…

ایران کے لیے واحد آپشن

بوروڈینو (Borodino) ماسکو سے ایک سو تیس کلو میٹر دور…

ہیکل سلیمانی

اللہ تعالیٰ کا حضرت دائود ؑ پر خصوصی کرم تھا‘…