منگل‬‮ ، 03 فروری‬‮ 2026 

روس نے شام میں زمینی فوج اتار دی: امریکی عہدیدار

datetime 10  ستمبر‬‮  2015 |
Forces loyal to Syria's President Bashar al-Assad walk along a street near the Syrian government Air Force Intelligence building (unseen) that came under attack by insurgents on Wednesday and part of it had been destroyed, in the northern city of Aleppo March 5, 2015. Insurgents attacked the Syrian government security building in the northern city of Aleppo on Wednesday, bombing it and then launching a ground assault, sources on both sides and a monitoring group said. REUTERS/George Ourfalian (SYRIA - Tags: CIVIL UNREST POLITICS CONFLICT)

اسلام آباد(نیوز ڈیسک)امریکی عہدیداران کا کہنا ہے کہ روس نے پچھلے ایک روز اور اس سے پہلے کے عرصے کے دوران دو ٹینک لینڈنگ کشتیاں اوراضافی طیارے شام میں بھیجے ہیں اور اس کے علاوہ چھوٹی تعداد میں بحری انفنٹری فورسز بھی تعینات کی گئی ہیں۔دو امریکی عہدیداران نے برطانوی خبررساں ایجنسی رائیٹرز کے ساتھ نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بات کرتے ہوئے بتایا ہے کہ روسی فوج کی شام میں اس نقل وحرکت کے ارادے ابھی تک غیر واضح ہیں۔ ایک ذرائع کا کہنا ہے کہ ابتدائی معلومات سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ ان فوجیوں کی توجہ شامی صدر بشار الاسد کے مضبوط گڑھ ساحلی شہر الاذقیہ کے قریب ایک نئے فضائی اڈے کی تعمیر پر ہے۔دریں اثناء شام میں جاری سیاسی اور فوجی پیش رفت سے واقف لبنانی ذرائع کا کہنا ہے کہ بدھ کے روز شام میں روسی فوجیوں نے فوجی آپریشنز میں حصہ لیا ہے اور ان فوجیوں کی تعداد ابھی تک کم ہی ہے۔

مزید پڑھئے: بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ کو پھر پاکستان کی یاد ستانے لگی

ایک ذرائع کے مطابق “روسی فوجیوں نے چھوٹی تعداد میں آپریشنز میں حصہ لینا شروع کیا ہے مگر ابھی تک بڑی فورس نے کوئی حرکت نہیں کی ہے۔ شام میں کافی تعداد میں روسی موجود ہیں مگر انہوں نے ابھی تک دہشت گردی کے خلاف جنگ میں حصہ نہیں لیا۔ایک اور ذرائع کا کہنا تھا کہ “روسی فوجی شامیوں کے ساتھ مل کر آپریشنز میں حصہ لے رہے ہیں۔ ان کا کردار زیادہ تر مشورے دینے تک محدود ہے۔شامی عہدیداروں نے شام میں روسی فوجیوں کے کسی قسم کے جنگی کردار کی باتوں کو مسترد کیا ہے۔ بدھ کے روز ہی ماسکو کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ روس کے فوجی ماہرین شام میں موجود تھے تاکہ دمشق کو روسی اسلحے کی کھیپ بحفاظت پہنچائی جاسکے۔روس نے شام میں موجود اپنی فوجی قوت کی تعداد اور اس کے کردار کے حوالے سے بات کرنے سے گریز کیا ہے۔ امریکی عہدیداروں کا کہنا ہے کہ حالیہ دنوں میں ماسکو نے اپنے اتحادی بشار الاسد کی مدد کے ممکنہ ارادے کے تحت شام میں اپنی موجودگی بڑھا دی ہے۔شامی وزیر اطلاعات نے اس ہفتے کے دوران کہا تھا کہ کوئی روسی فوجی شامیوں کے ساتھ محاذ جنگ پر نہیں لڑ رہا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



محبت تا ابد


وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…