شام(نیوز ڈیسک) یورپ میںشامی پناہ گزینوں کو نسلی تعصب اور نفرت کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے جس کی تازہ مثال گزشتہ روز سامنے آئی جس میں ہنگری سے تعلق رکھنے والی ایک کیمرہ آپریٹر پرٹا لازلو ہے۔پرٹا لازلو روزکی کے بارڈر پر اپنے چینل کے لئے پولیس سے بچ کر بھاگنے والے پناہ گزینوں کی فلم بنا رہی تھی جہاں اس نے متعدد بار انہیں ذلت آمیز طریقے سے لات رسید کی۔ وہاں موجود جرمنی سے تعلق رکھنے والے ایک اور صحافی سٹیفن رچر جو کہ ایک جرمن ٹی وی کے لئے کام کرتے ہیں اسے فلمبند کر لیا اور سماجی رابطوں کی سائیٹس ٹوئیٹر اور فیس گروپ پر اپ لوڈ کر دیا۔دیکھتے ہی دیکھتے یہ بیس سیکنڈ کی ویڈیو ہر کسی تک پہنچ گئی۔ +
مزید پڑھئے: لاہور میں بڑی تباہی کا منصوبہ ناکام
ویڈیو میں پرٹا لازلو کو ایک پناہ گزین باپ جس کی گود میں اس کا بچہ ہے کو ٹانگ اڑا کر گراتے ہوئے جبکہ ایک اور بچی کو لات رسید کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ ویڈیو کے وائرل ہو جانے کے فوراً بعد ہی جہاںپرٹا لازلو کو اس کی نوکری سے فارغ کر دیا گیا ہے وہیں سماجی رابطوں کی ویب سائیٹس پر لوگوں نے اسے خوب برا بھلا بھی کہا ہے۔



















































