بدھ‬‮ ، 06 مئی‬‮‬‮ 2026 

بنگلہ دیش کے کمسن مزدور، ڈیوٹی 11گھنٹے روزانہ، معاوضہ ساڑھے 6ڈالر ماہانہ

datetime 9  ستمبر‬‮  2015 |

ڈھاکہ(نیوز ڈیسک) بچوں کو غبارے بہت خوبصورت اور دلکش معلوم ہوتے ہیں۔ تقریبات اور میلوں ٹھیلوں کی رنگینی میں اضافہ کرتے ہیں اور دنیا بھر کے بچے ان کی طرف متوجہ ہوتے ہیں۔بچوں کیلئے غبارے خوبصورتی اور رنگینی کی علامت ہیں مگر اس وقت تک جب تک وہ اس مشقت کا حصہ نہ ہوں جو غبارے بنانے والی فیکٹریوں میں کام کرنے والے بنگلہ دیشی بچوں کا مقدر بن چکی ہے۔ بنگلہ دیش میں دس دس سال کی عمر کے بچے اپنے گھر والوں کو فاقہ کشی کے عذاب سے بچانے کیلئے تقریبات کیلئے غبارے بنانے والی فیکٹریوں میں طلوع سے غروب آفتاب تک مشقت کرنے پر مجبور ہیں اور اس کے بدلے میں مہینے کے بعد انہیں ساڑھے چھ ڈالر مل جاتے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق یہ بچے صبح چھ بجے سے شام پانچ بجے تک کام کرتے ہیں تاکہ معاوضے میں حاصل ہونے والی تھوڑی سے رقم ان کے والدین کی کمائی میں شامل ہو کر ان کا بوجھ کچھ کم کر سکے۔ تجربہ حاصل کرنے کے بعد معاوضہ 16ڈالر ماہانہ تک بھی ہو سکتا ہے اور یہ رقم براہ راست بچوں کے والدین کو دی جاتی ہے۔ ایک اندازے کے مطابق بنگلہ دیش میں دس سے 14برس کی عمر کے بچہ مزدوروں کی تعداد ایک ملین کے لگ بھگ ہے۔دس سال کے لگ بھگ عمر والے بچوں کو سکول میں ہونا چاہیے مگر وہ گندی فیکٹریوں میں کام کرتے ہوئے خود بھی میل کچیل سے اٹے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ تجربہ کار بچے کو 16ڈالرتک ماہانہ معاوضہ دیا جاتا ہے جو حکومت کی طرف سے مقرر کردہ ابتدائی مزدور کے کم از کم معاوضے 5300ٹکا (41.80ڈالر ) سے انتہائی کم ہے۔ کم معاوضوں کے باعث بنگلہ دیش کے اکثر گھروں میں اس کے سوا کوئی اور چار ہ نہیں رہ جاتا کہ وہ زندگی کی گاڑی کو دھکیلنے کیلئے کمسنوں کو بھی مشقت کی مشین میں ڈال دیں۔ بچوں کی مزدوری ان کے والدین کو ملنا بھی ایک معمول بن چکا ہے۔ غبارہ فیکٹری میں کام کرنے والے 12سالہ آپو کے حالات بھی ایسے ہی ہیں۔ اس کا کہنا ہے کہ میرا باپ مجھے اور میری ماں کو اس وقت چھوڑ گیا جب میں پانچ برس کا تھا، میری ماں اس وقت سے مجھے پالتی آ رہی ہے اور اب میں کام کر کے اس کا مدد کرنے کی کوشش کر رہا ہوں۔ اس کے ساتھ کام کرنے والے 11سالہ روما کے حالات بھی اس جیسے ہی تھے تاہم وہ قدرے خوش ہے کہ سکول جانے سے اس کی جان چھوٹ چکی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)


ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…

مذاکرات کی اندرونی کہانی

پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم ہیں‘…

گریٹ گیم (آخری حصہ)

میں اس سوال کی طرف آئوں گا لیکن اس سے قبل ایک حقیقت…

گریٹ گیم(چوتھا حصہ)

لیویونگ زنگ اور اس کا بھائی لیویونگ ہو چین کی…

گریٹ گیم(تیسرا حصہ)

ہم بائبل پڑھیں‘ قرآن مجید اور احادیث کا مطالعہ…

گریٹ گیم(دوسرا حصہ)

حضرت آدم علیہ السلام اورحضرت حواء علیہ السلام…

گریٹ گیم

یہ گیم ہابیل اور قابیل کی لڑائی سے شروع ہوئی تھی‘…

ایران کی سب سے بڑی کام یابی

وہ آرٹسٹ تھی اور اس کا نام مرینا ابراموویک (Marina…

لفظ اضافی ہوتے ہیں

نیویارک کے اطالوی ریستوران میں نوجوان لڑکی نے…