پیر‬‮ ، 12 اکتوبر‬‮ 2026 

چینی کمپنی نے گوادر میں آئل ریفائنری قائم کرنے کے منصوبے کا آغاز کر دیا

datetime 10  ‬‮نومبر‬‮  2022 |

لاہور(این این آئی )چینی فرم ایسٹ سی گروپ لمیٹڈ نے گوادر میں 4.5 بلین ڈالر کی آئل ریفائنری قائم کرنے کے منصوبے کا آغاز کر دیا جو سالانہ8 ملین ٹن آئل پروسیسنگ کی صلاحیت کی حامل ہو گی ۔دستیاب دستاویز ات کے مطابق یہ منصوبہ دو مرحلوں میں تعمیر کیا جائے گا۔ پہلے مرحلے میں ریفائننگ کی سالانہ صلاحیت 5 ملین ٹن ہوگی۔

ایسٹ سی گروپ پاکستان کی گوادر بندرگاہ پر ہر ماہ کم از کم چھ خام تیل کی ترسیل کے جہاز رکھے گا جبکہ مشرق وسطی کے بڑے تیل پیدا کرنے ممالک کے لیے تیل کی ترسیل اور ترسیل کی خدمات بھی فراہم کرے گا۔ ایسٹ سی گروپ کے سی ای او فانگ یولونگ جو کہ پاکستان چائنا جوائنٹ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے سینئر نائب صدر بھی ہیں نے گوادر پیٹرولیم سٹوریج اینڈ ٹرانسپورٹیشن ٹریڈنگ سینٹر کی تعمیر کے میگا پراجیکٹ کے آغاز کی نوید سنائی۔آئل ریفائنری کی تعمیر کا منصوبہ جون 2022 میں چائنہ اوورسیز پورٹس ہولڈنگ کمپنی کے چیئرمین ژانگ با زونگ اور پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف کے درمیان ہونے والی ملاقات میں پیش کیا گیا تھا۔ وزارت توانائی کے ذرائع کے مطابق اس تجویز سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ ریفائنری پاکستان کو ذخیرہ کرنے کی خاطر خواہ گنجائش فراہم کرے گی جس سے یہ ذخائر کو زیادہ وقت تک برقرار رکھنے اور زرمبادلہ کو بچانے کے قابل بنائے گی۔

ملٹی بلین ڈالر کا یہ منصوبہ عملدرآمد کے بعد گوادر میں پیٹرو کیمیکل انڈسٹری میں مزید سرمایہ کاری کے لیے حوصلہ افزائی کرے گا۔ مزید برآں تجویز میں متعلقہ سرکاری محکموں کی مدد طلب کی گئی تاکہ اس منصوبے کو عملی جامہ پہنانے کے لیے ایک وسیع البنیاد پالیسی فریم ورک کی تشکیل اور اس کے بعد عملدرآمد میں آسانی ہو۔

حکومت پاکستان کی جانب سے میگا پراجیکٹ کو گرین لائٹ کرنے کے لیے، متعلقہ ادارے تفصیلی بزنس پلان اور مزید کارروائی کے لیے فزیبلٹی اسٹڈی کی جانچ پڑتال کے لیے پیشرفت کر رہے ہیں۔ منصوبہ بندی اور تعمیرات کے لیے آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا آرڈیننس 2022 )کے تحت لائسنسنگ کی تکمیل کرے گی۔

گوادر چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر ناگمان عبدل نے آئل ریفائنری منصوبے کو ترقی کے ایک نئے باب سے تعبیر کرتے ہوئے کہا کہ اس سے نہ صرف روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے بلکہ کاروبار کے مزید راستے کھلیں گے اورپیٹرولیم کے درآمدی بل کا حجم بھی کم ہوگا۔پاکستان میں پیٹرو کیمیکل کی پیداوار کی کوئی بنیادی سہولت نہ ہونے کی وجہ سے پاکستان سالانہ 2 بلین ڈالر سے زیادہ مالیت کے پیٹرو کیمیکلز درآمد کر رہا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(گیارہواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دسواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(نواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(آٹھواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…