منگل‬‮ ، 05 مئی‬‮‬‮ 2026 

ان سے بات کی جن سے ملنے شہباز گاڑی کی ڈگی میں جاتے تھے، عمران خان کا وزیراعظم کے دعوے پر جواب

datetime 30  اکتوبر‬‮  2022 |

مرید کے (این این آئی)پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے کہا ہے کہ میں نے نہ کسی کے پیر پکڑے اور نہ منتیں کیں،بوٹ پالش کرنے والوں سے بات نہیں کرتا،میں کسی ملٹری ڈکٹیٹر کی نرسری میں نہیں پلا، ذوالفقار علی بھٹو کی طرح ایوب خان کو ڈیڈی نہیں کہتا تھا، قوم امپورٹڈ حکومت کو نہیں مانتی،

غلام اور ڈاکو ہم پر مسلط کئے گئے، میں آزاد آدمی ہوں، مر سکتا ہوں مگر غلامی نہیں کر سکتا۔لانگ مارچ کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے عمران خان نے کہاکہ شہباز شریف نے دعویٰ کیا کہ میں نے انہیں آرمی چیف کی تعیناتی پر مشاورت کیلئے پیغام بھیجا، شہباز شریف میری بات سن لو! میں بوٹ پالش کرنے والوں سے بات نہیں کرتا۔عمران خان نے کہا کہ میں نے ان سے بات کی جن سے ملنے آپ گاڑی کی ڈگی میں چھپ کر جایا کرتے تھے، تم سے بات کرنے کا کیافائدہ ہے؟ تمہارے پاس بات کرنے کیلئے ہے کیا؟ تم نے ساری زندگی بوٹ پالش کی۔عمران خان نے کہا کہ شہباز شریف کہتا ہے کہ میں نے پیغام بھجوایا، شہباز شریف! میں تمہارے پاس کیوں پیغام بھجواؤں گا؟ میں نے ان سے بات کی جو تمہیں اشاروں پر چلاتے ہیں، میں نے ان سے صرف ایک بات کی کہ ملک میں صاف شفاف انتخابات کرواؤ، میں نے اور کوئی بات نہیں کی۔انہوں نے کہا کہ میں کسی ملٹری ڈکٹیٹر کی نرسری میں نہیں پلا، میں ذوالفقار علی بھٹو کی طرح ایوب خان کو ڈیڈی نہیں کہتا تھا، میں نے اس کی کابینہ میں 8 برس نہیں گزارے۔عمران خان نے کہا کہ اسٹیبلشمنٹ کو میں ایک پیغام دینا چاہتا ہوں، جنرل مشرف نے جب دو کرپٹ پارٹیوں کو ہٹایا تو لوگوں نے مٹھائی بانٹی، جب این آر او دیا تو ملک کو وہ نقصان پہنچایا جو دشمن بھی نہیں پہنچا سکتا، اسٹیبلشمنٹ نے ہی ان پر کیسز کروائے اور ثابت کیا کہ یہ کتنے کرپٹ ہیں۔

انہوں نے کہا کہ آپ نے ان چوروں کا ساتھ دینے کا فیصلہ کیا ہے تو یہ نہ سمجھیں کہ ہم بھیڑ بکریاں ہیں، آپ نے ان چوروں کے ساتھ کھڑے ہونے کا فیصلہ کیا ہے تو یہ دیکھ لیں کہ عوام کہاں کھڑے ہیں؟۔سابق وزیر اعظم نے کہا کہ ساری قوم یہاں کھڑی ہے اور آپ ان چوروں کی حمایت میں پریس کانفرنس کررہے ہیں، میں چاہتا ہوں کہ میری فوج مضبوط اور تگڑا ادارہ بنے، میں چاہتا ہوں پوری قوم فوج کے ساتھ کھڑی ہو کیونکہ فوج بھی میری ہے، ملک بھی میرا ہے، ملک کو آزاد رکھنے کیلئے ایک مضبوط فوج چاہیے، جب میں تنقید کرتا ہوں تو تعمیری تنقید ہوتی ہے، میں اپنی فوج کو نقصان نہیں پہنچانا چاہتا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)


ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…

مذاکرات کی اندرونی کہانی

پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم ہیں‘…

گریٹ گیم (آخری حصہ)

میں اس سوال کی طرف آئوں گا لیکن اس سے قبل ایک حقیقت…

گریٹ گیم(چوتھا حصہ)

لیویونگ زنگ اور اس کا بھائی لیویونگ ہو چین کی…

گریٹ گیم(تیسرا حصہ)

ہم بائبل پڑھیں‘ قرآن مجید اور احادیث کا مطالعہ…

گریٹ گیم(دوسرا حصہ)

حضرت آدم علیہ السلام اورحضرت حواء علیہ السلام…

گریٹ گیم

یہ گیم ہابیل اور قابیل کی لڑائی سے شروع ہوئی تھی‘…

ایران کی سب سے بڑی کام یابی

وہ آرٹسٹ تھی اور اس کا نام مرینا ابراموویک (Marina…

لفظ اضافی ہوتے ہیں

نیویارک کے اطالوی ریستوران میں نوجوان لڑکی نے…